مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی نے ایک بار پھر امریکی صدر کے دستخط کی بے وقعتی ثابت کردی : رہبر انقلاب اسلامی
12
M.U.H
18/07/2026
تہران: سپریم لیڈر کے دفتر کے پریس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے شہید امت امام خامنہ ای کے وداع کے عظیم واقعہ کے بارے میں ایک پیغام میں اور ملک کے اہم مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ آج ایک بار پھر بڑے شیطان نے نقاب اتار کر اپنا اصلی چہرہ ظاہر کر دیا ہے اور جرائم اور وعدہ خلافی کا یہ سیاہ تجربہ امریکہ کی جھوٹی، غیر منطقی، ناقابل اعتبار اور گھٹیا فطرت کا ایک اور مضبوط ثبوت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج جب کہ امریکی دشمن جنگ بھڑکانے کے درپے ہے اور بھاری قیمت چکانے اور زیادہ بے عزتی برداشت کرنے پر مصر ہے تو ، اسے جان لینا چاہیے کہ وطن عزیز ایران اور مزاحمتی محاذ اسے ایسا سبق سکھائے گا جو اسے ہمیشہ یاد رہے گا، جیسا کہ سپاہیان اسلام اور خطہ جنوب کے بہادر لوگوں نے ان دنوں اس کے چند ایک نمونے پیش بھی کیے ہیں۔
آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ، ایران کے وفادار اور سربلند عوام کو یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ موجود دور میں عوام اور حکام کے درمیان ہر سطح پراور ہر شعبے میں اتحاد و یگانت پر اصرار، اسلامی انقلاب کے اعلی اہداف کے حصول اور وطن عزیز کے وقار اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے خاص طور پر جرائم پیشہ اور چالباز دشمن امریکہ کے مقابلے میں ضروری ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ جیسا کہ پہلے بھی بارہا اور پروزر دہانی کرائی جاتی رہی ہے کہ اتحاد کا تحفظ اور دھڑے بندی اور تنازعات سے گریز، سیاسی و سماجی تفاوت کو ہوا نہ دینا سب کی ذمہ داری ہے، بلاشبہ ملکی سالمیت اور اتحاد کے تحفظ کے حوالے سے دلسوز اور انقلاب، امام اور رہبر شہید کے گرویدہ عہدیداروں اور دیگر عناصر کا کردار بے انتہائي اہم ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے پیغام کے ایک اور حصے میں ایرانی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے پیارے عوام، مقتدرہ ، مقننہ اور عدلیہ کے عہدیداروں پر اعتماد کرتے ہوئے، کہ قوم کی فلاح و بہبود کے لیے جن کی کوششیں پوری طرح واضح ہیں، اسلامی ایران کے مفادات کے تحفظ کی خاطر پوری طرح ہوشیار اور بھرپور طریقے سے میدان عمل میں موجود رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممکن ہے کہ کچھ لوگ پورے خلوص اور خوش اسلوبی کے ساتھ بعض عہدیداروں کی کارکردگی پر تنقید کریں۔ میری رائے میں نظام اسلامی کے حوالے سے ان کی اس فکر اور پریشانی کو بھی خود ان کی مانند ایک قیمتی اثاثہ سمجھا جانا چاہیے کیونکہ یہ تنقید خود اپنی جگہ ایک مثبت امر ہے۔ لیکن ان عزیزوں کو بھی، جن میں سے بعض حضرات بصیرت کے علمبرداروں میں شامل ہیں، محتاط رہنا چاہیے کہ ان کی تنقید اول تو کسی بے گناہ کے ساتھ ناانصافی کا سبب نہ ہو جو کہ اپنی جگہ پر برکات اور الطاف الہی سے محرومی کا باعث بنتی ہے اور دوسرے یہ کہ سماجی اتحاد اور یکجہتی کی شکست کا باعث نہ ہو۔ان پہلوؤں کو ملحوظ رکھتے ہوئے تنقید کرنا معاملات کے بہتری اور ترقی کا سبب بنے گا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ "دشمن کو ہماری طرف سے ایسا کو سنگل نہیں جانا چاہیے کہ وہ ہمیں کمزور سمجھے۔ اگر ہم مذکورہ معاملات میں احتیاط برتیں گے تو لامحالہ دشمن کو ہزیمت قبول کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔