واشنگٹن فریم ورک معاہدے میں لبنان کی خودمختاری پر کاری ضرب ہے:شیخ نعیم قاسم
10
M.U.H
27/06/2026
شیخ نعیم قاسم نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ فریم ورک معاہدے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے دشمن کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ فریم ورک معاہدے کے حوالے سے ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے لبنانی حکام کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔
ان کے بیان کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ لبنانی حکام کی اپنے عوام کے ساتھ دیانت داری اور اپنے ملک کی خودمختاری کے تحفظ کے حوالے سے ذمہ داری کہاں ہے؟ وہ خودمختاری جسے امریکی سرپرست نے انہیں کبھی عطا نہیں کیا۔
جب امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جنگ بندی کا موقع انہیں فراہم کیا گیا تو انہوں نے اسے مسترد کر دیا، جس کے نتیجے میں اسرائیلی دشمن کو بدھ کے سیاہ دن جیسے خوفناک جرم کا ارتکاب کرنے کا موقع ملا۔
اس دن سینکڑوں افراد شہید اور زخمی ہوئے، عوام شدید خوف و ہراس کا شکار ہوئے اور اسرائیل نے بیروت سمیت پورے لبنان پر تقریباً ایک سو فضائی حملے کیے جن سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی۔
۲۔ ہم نے حکام کو پہلے ہی متنبہ کیا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات درحقیقت مفت میں رعایتیں دینے کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ ایسے مذاکرات کا مقصد لبنان کو اسرائیل اور امریکہ کے مطالبات کے سامنے جھکنے پر مجبور کرنا ہے۔
آپ نے نصف سے زیادہ لبنانی عوام سے دشمنی مول لے کر، آئین اور ان قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، جو اسرائیل کو دشمن قرار دیتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق یا تعاون کو قابل مواخذہ جرم سمجھتے ہیں، ان مذاکرات میں شرکت کی۔
آپ کے پاس مزاحمت کے لیے کوئی قوت باقی نہیں رہی کیونکہ آپ نے اپنی مرضی سے مزاحمت اور عوامی طاقت کو ترک کر دیا اور دو مارچ کو حکومت کے اس غیرقانونی فیصلے کے ذریعے، جس میں جنگ کے دوران ہی مزاحمت کو غیرقانونی قرار دیا گیا، آپ نے مزاحمت کی پیٹھ میں خنجر گھونپا۔
یہ تمام اقدامات صرف اسرائیلی جارحانہ منصوبے کی خدمت کے لیے تھے۔
الفاظ کا کھیل اور حقیقت کو بدلنے کی کوشش بے فائدہ ہے؛ اصل معیار نتائج ہوتے ہیں۔
یہ لبنان کی خودمختاری سے غداری ہے، اور دوست و دشمن دونوں اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔
۳۔ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق لبنان میں جنگ بندی سے متعلق تھی۔
جب اسرائیل نے اس کی پابندی سے انکار کیا تو ایران نے اس مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد معطل کر دیا اور آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رکھی، یہاں تک کہ امریکہ نے اسرائیل پر دباؤ ڈال کر اسے جنگ بندی پر مجبور کیا۔
اس مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق میں واضح طور پر درج ہے:
"امریکہ، ایران اور اس تنازع میں شامل ان کے متعلقہ اتحادی، اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے ساتھ تمام محاذوں، خصوصاً لبنان میں، فوری اور مستقل جنگ بندی کا اعلان کرتے ہیں اور آئندہ ایک دوسرے کے خلاف کسی قسم کی جنگ یا فوجی کارروائی شروع نہ کرنے، طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کرنے اور لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی ضمانت دینے کے پابند ہوں گے۔"
اسی مفاہمتی یادداشت کی تیسری شق کے مطابق حتمی معاہدہ ساٹھ دن کے اندر مکمل ہونا تھا۔
اس کے باوجود لبنانی حکام نے اس راستے کو بھی مسترد کر دیا، یہاں تک کہ بعض معقول افراد نے انہیں اس مفاہمتی یادداشت کی اہمیت سمجھائی اور بتایا کہ جنگ اسی کے ذریعے رک سکتی ہے، وہ کام جس میں خود لبنانی حکام ناکام رہے تھے۔
انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ اسرائیل کے انخلا سے متعلق مذاکرات صرف لبنان کا حق ہیں اور اس کی جانب سے کوئی دوسرا فریق مذاکرات نہیں کرے گا۔
یہ ایران، اس کی باوقار اور ثابت قدم قوم کی جانب سے لبنان، اس کے عوام اور اس کی مزاحمت کے لیے عزت، وقار اور طاقت کا تحفہ تھا۔
اس مفاہمتی یادداشت میں لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی ضمانت دی گئی ہے، اور اس خودمختاری کا تقاضا ساٹھ دن کے اندر اسرائیلی انخلا ہے۔
یہ لبنان کے ہاتھ میں ایک مضبوط سفارتی اور سیاسی ہتھیار تھا، ایسا ہتھیار جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
لیکن واشنگٹن میں طے پانے والے نام نہاد "فریم ورک معاہدے" میں لبنانی حکام نے اسی مؤثر ہتھیار، مزاحمت کی طاقت اور لبنانی عوام کی قربانیوں کو ترک کر کے وہ سب کچھ اسرائیل کو مفت میں دے دیا جسے وہ جنگ کے میدان میں حاصل نہیں کر سکا۔
۴۔ کتنی بڑی غلطی ہے! اور کتنا بڑا جرم ہے کہ لبنان کی خودمختاری اسرائیل جیسے دشمن کے حوالے کر دی جائے!
اب نتن یاہو یہ طے کرے گا کہ لبنانی فوج کو دو آزمائشی علاقوں میں کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
اسرائیل جیسا لبنان کا دشمن لبنانی فوج کی تعیناتی اور مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کے مراحل کی نگرانی کرے گا، جبکہ سہ فریقی کمیٹی بھی دشمن کی خواہشات کے مطابق کام کرے گی۔
ان دو علاقوں میں یہ "آزمائشی مرحلہ" کئی مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے، اور جب تک اسرائیل کی طرف سے "حسن سلوک کا سرٹیفکیٹ" نہیں ملتا اور وہ اپنے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کر لیتا، تب تک کسی دوسرے علاقے میں ایسا کوئی تجربہ نہیں ہوگا۔
یہی بات نتن یاہو نے بھی واضح طور پر کہی: "اسرائیل اس وقت تک سکیورٹی زون میں موجود رہے گا جب تک حزب اللہ کو لبنان میں مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا۔"
لبنانی حکام درحقیقت آنے والے کئی برسوں کے لیے اسرائیلی قبضے کو قانونی جواز فراہم کر رہے ہیں، اور یہ عمل مستقبل میں ان علاقوں کو اسرائیل کے ساتھ ضم کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
یہ ایسا معاہدہ ہے جو لبنانی عوام کو اپنی سرزمین پر واپس آنے کے بنیادی حق سے محروم کرتا ہے۔
آخر اسرائیل کو لبنان کے داخلی معاملات میں مداخلت کا کیا حق حاصل ہے؟
کوئی بھی معاہدہ صرف دریائے لیتانی کے جنوب تک محدود ہونا چاہیے، اور اسرائیل کا لبنان کے اندر اسلحے، سلامتی یا ملک کے مستقبل سے متعلق معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔
اسرائیلی انخلا کو پورے لبنان میں مزاحمت کے اسلحے سے مشروط کرنا نہایت خطرناک تجویز ہے، جو تمام سرخ لکیریں عبور کر چکی ہے اور لبنان کو اسرائیل کے ہاتھوں کا کھلونا بنا دیتی ہے۔
اگر لبنان کی جانب سے مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کا عمل مکمل نہ ہوا تو اسرائیل ہر مقام پر موجود کسی بھی ہتھیار کو اس بات کا جواز بنائے گا کہ لبنان نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ کیسے ممکن ہے جبکہ اسلحہ مکمل طور پر ختم ہی نہیں کیا جا سکتا؟
کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ لبنانی عوام کو اپنے وطن اور اپنی سرزمین پر قابض دشمن کے خلاف دفاع کے حق سے محروم کرے۔
اسرائیل کو اس لیے واپس جانا ہوگا کہ وہ جارح اور قابض ہے۔
اس اصول سے ذرا بھی انحراف اسرائیل کو اس کی ناکام جارحیت کے بعد انعام دینے اور لبنان کی خودمختاری کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔
۵۔ واشنگٹن میں طے پانے والا یہ فریم ورک معاہدہ لبنان کی توہین، باعث شرم اور قومی خودمختاری کو ضائع کرنے والا معاہدہ ہے۔ یہ معاہدہ باطل اور ناقابل قبول ہے۔
اس کے بجائے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔
ہم لبنان کے حکام سے کہتے ہیں کہ: اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنی غلطی کا اعتراف کریں۔
اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ کی سابقہ غلطیوں کے باوجود یہ ایک قابل قدر قدم شمار ہوگا۔
ہم لبنان کی خودمختاری کے تحفظ، سرزمین کی آزادی، اسرائیلی قابض افواج کے انخلا، قیدیوں کی رہائی، بے گھر افراد کی واپسی، تعمیر نو، ملک کی آبادکاری اور قومی سلامتی کی مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے تعاون اور یکجہتی کے لیے تیار ہیں۔
یہ جنگ بندی مزاحمت کے مجاہدین، ان کے اہل خانہ اور لبنان کے عوام کی عظیم قربانیوں کے بغیر ممکن نہ تھی۔
ہم اپنے شہداء، زخمیوں، قیدیوں، ان کے اہل خانہ، لبنان کی عوام، لبنانی فوج اور تمام ان اداروں اور تنظیموں کی قربانیوں کی حفاظت کریں گے جنہوں نے اس جدوجہد میں شہداء اور زخمی پیش کیے۔
ہم میدان عمل میں ایک مزاحمتی قوت کے طور پر قابض دشمن کو شکست دینے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ہم نے انتہائی سخت حالات میں بھی میدان نہیں چھوڑا اور آئندہ بھی ہرگز نہیں چھوڑیں گے، کیونکہ یہی عزت، خیر اور نجات کا راستہ ہے۔