امریکہ جان لے کہ اگر اس نے جنگ شروع کی تو یہ علاقائی جنگ ہوگی: آیت اللہ خامنہ ای
15
M.U.H
01/02/2026
تہران:انقلاب اسلامی ایران کی فتح کی اور بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی کی ایران آمد کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی نے امام خمینی (رہ) حسینیہ میں لوگوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔ ان کے بیانات کے اہم ترین نکات درج ذیل ہوں گے۔
یہ حقیقت کہ امریکی کبھی جنگ کی باتیں کرتے ہیں اور ہوائی جہازوں اور بحری بیڑوں وغیرہ کی بات کرتے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں امریکیوں نے اپنی بیانات میں بارہا دھمکیاں دی ہیں اور کہا ہے کہ تمام آپشن میز پر ہیں۔ جنگ کا آپشن بھی شامل ہے۔
اب یہ شخص (ٹرمپ) بھی تواتر سے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ ہم جہاز لے کر آئے ہیں اور... ایرانی قوم کو ان باتوں سے خوفزدہ نہ کرو، ایرانی عوام ان دھمکیوں سے متاثر ہونے والے نہیں۔
ہم جنگ شروع نہیں کریں گے، نہ کسی بھی ملک پر حملے کا ارادہ رکھتے ہیں، لیکن ایران کے عوام حملہ آور کو منہ توڑ جواب دیں گے۔
یقیناً امریکیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر انہوں نے جنگ شروع کی تو اس بار یہ جنگ ایک علاقائی جنگ ہوگی۔
حالیہ فتنہ ایک بغاوت کی طرح تھا۔ یقیناً بغاوت کو دبا دیا گیا۔ ان کا ہدف ملک کی انتظامیہ کے حساس اور موثر مراکز کو تباہ کرنا تھا اور اسی وجہ سے انہوں نے پولیس، حکومتی مراکز، آئی آر جی سی کے مراکز، بینکوں، مساجد پر حملے کیے اور قرآن مجید کو نذر آتش کیا۔ انہوں نے ان مراکز پر حملے کیے جو ملک کا انتظام چلاتے ہیں۔ یہ ایک بغاوت کی طرح تھا۔
ایران میں بہت سے پرکشش چیزیں ہیں۔ بشمول تیل، گیس، بھرپور کانیں، تزویراتی اور جغرافیائی محل وقوع، اور بہت سی دوسری خصوصیات۔ ایران ایک ایسا ملک ہے جو فطری طور پر کسی بھی جارح طاقت کی للچائی نظروں میں آتا ہے۔اس لیے وہ اس ملک پر اسی طرح قبضہ کرنا چاہتے ہیں جس طرح اس سے پہلے قبضہ کیا گیا تھا۔
امریکی تیس سال، تیس سال سے زیادہ ایران میں تھے۔ ان کے پاس وسائل تھے، ان کے پاس تیل تھا، ان کے پاس سیاست تھی، ان کے پاس سیکورٹی تھی، ان کے پاس دنیا سے روابط تھے، ان کے پاس سب کچھ تھا۔ 30 سال تک انہوں نے جو چاہا وہ کیا۔اب ان کے ہاتھ کٹ گئے ہیں۔ تیس سال تک ان کے ہاتھ کاٹے گئے۔ وہ ایران واپس آنا چاہتے ہیں اور پھر وہی حال کرنا چاہتے ہیں جو پہلوی دور میں تھا۔ایرانی قوم بھی سینہ سپر ہوکے ڈٹ گئی ہے۔ اصل لڑائی یہ ہے۔
باقی باتیں، انسانی حقوق کے دعوے اور دوسری مفت کی باتیں جویہ لوگ کرتے ہیں اس کے پيچھے اصل بات یہی ہے۔ وہ (ٹرمپ) لالچی اور ایران بھی ڈٹا ہوا ہے اور مضبوطی سے ڈٹا ہوا ہے، اور خدا کے فضل سے ایران فریق مقابل کو موذی پن اور ایذا رسانی سے مایوس کردے گا۔