آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کا طلبہ کو پیغام: علم، تقویٰ اور امید سے ایران کی ترقی میں کردار ادا کریں
64
M.U.H
23/09/2026
رہبر انقلاب اسلامی نے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے کھلنے کے موقع پر ایک پیغام میں زور دیا: آج طلبہ اور طالبات کی ذمہ داری علم و تقوی، امید و اخلاقیات اور دانائی و توانائی سے لیس ہونے اور جہالت و تاریکی کے پردے ہٹانے کی کوشش کرنا ہے تاکہ وہ علم کی سرحدیں توڑ کر اور ترقی کی چوٹیوں کو سر کر کے اسلامی جمہوریہ ایران کی عظمت کے لیے اپنی تاریخی ذمہ داری پوری کر سکیں۔
تہران:رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای نے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے کھلنے کے موقع پر ایک پیغام دیا ہے جس کا متن پیش خدمت ہے:
نئے تعلیمی سال کے آغاز اور اسکول و یونیورسٹی میں علم و ادب کے مراکز کے دوبارہ کھلنے کا پیغام، قوم کی تازگی، امید اور ایک روشن و شاندار مستقبل کی طرف تیز رفتار حرکت کا نوید ہے۔ ایسا مستقبل جس کی تکمیل ایران کے پیارے بچوں اور مکتب اسلام و انقلاب اسلامی کے تربیت یافتہ افراد کے توان مند ہاتھوں میں ہے۔ وہی نسل جس کے بارے میں امام خمینی کبیر اور عظیم الشان شہید خامنہ ای شہید اعلیالله مقامهما الشّریف نے بارہا اپنی امید ظاہر کی ہے۔
اب جبکہ تعلیمی سال کا نیا دروازہ طلبہ اور طالبات کی بڑی تعداد کے لیے کھل رہا ہے اور علم و حکمت کے راہرو، اللہ کی توفیق کی امید کے ساتھ علم، معرفت اور مہارت کے حصول کا نیا دور شروع کر رہے ہیں، مناسب ہے کہ ہم غمزدہ والدین کے ساتھ ہم آواز ہو کر حالیہ مسلط کردہ جنگ میں شہید ہونے والے طلبہ کو ایک بار پھر یاد کریں۔ امسال تعلیمی سال کے آغاز کے یادگار ایام، ہمارے لیے اس دنیا سے جا چکے ہمارے بچوں کی جدائی کا غم تازہ کر دیتے ہیں۔ اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں بعض طلبہ، اساتذہ اور معلمین کی خالی جگہ محسوس ہوگی اور یہ غم ہمارے ذہن کو خیر و شر کے درمیان تنازعے اور حق و باطل کی جنگ کی صحیح سمت کا تعین کرے گا ۔
آج طلبہ اور طالبات کی ذمہ داری علم و تقوی، امید و اخلاقیات، اور دانائی و توانائی سے لیس ہونا اور جہالت و تاریکی کے پردے ہٹانے کی کوشش کرنا ہے تاکہ وہ علم کی سرحدیں پار اور ترقی کی چوٹیوں کو سر کر کے اسلامی جمہوریہ ایران کی سر بلندی کے لیے اپنی تاریخی ذمہ داری کو سر انجام تک پہنچائيں۔ یہ اہم کام اس جگہ ہوتا ہے جو ان طلبہ و طالبات کا دوسرا گھر شمار ہوتی ہے۔ اس لیے ان عزیزوں سے عرض کرتا ہوں کہ ہمیشہ اس مقام کے احترام کا بہترین طریقے سے تحفظ ضروری ہے اور اپنی آگاہی و بصیرت کی سطح اور اپنے رویوں و اطوار میں بلندی کو زیادہ سے زیادہ بڑھا کر اس مقام کو اپنے وطن کی ترقی کا مرکز بنائیں۔ علم و ادب، تازگی اور امید کی اس پناہ گاہ میں چند سالہ موجودگی کے موقع سے، زیادہ سے زیادہ خود کی تعمیر کے لیے فائدہ اٹھائیں۔ یہ خود کو تعمیر کرنا انسان کی زندگی کے اہم ترین عنصر یعنی خالق متعال سے رابطے میں ہے ، یہ خود کی تعمیر اپنے ہم نوع، ہم وطن اور خاندان سے تعلقات میں ہے اوریہ خود کو تعمیرکرنا علم کے حصول اور مختلف قسم کی مہارتیں سیکھنے کے میدان میں ہے۔
اس دوران، صحیح سوچنے اور جدت پیدا کرنے کی مشق کریں اور ہمیشہ اپنی قومی شناخت کی جڑوں، اپنی ثقافتی عزت و آزادی، اپنی مادری زبان، اسلامی نظام کے مقدس پرچم اور اس کی دیگر علامات کے محافظ رہیں۔ جلد ہی وہ وقت آئے گا کہ آپ معاشرے میں اپنا مناسب کردار تلاش کریں گے اور اس وقت اسے بہترین طریقے سے انجام دے کر خود کو اور اپنے ملک کو سربلند بنائیں گے۔
اب ایسے زمانے میں جب سامراجی طاقتیں خاص طور پر جرائم پیشہ امریکی حکومت اور جعلی صہیونی حکومت، ظلم و بربریت کر رہی ہے، تقوی اور اخلاقیات کے ساتھ علم سے پیدا ہونے والی طاقت ایک فولادی سپر اور تیز تلوار کی مانند ہے جو ان کے جارحیت کرنے والے ہاتھوں کو بنی نوع انسان سے دور رکھتی ہے۔ آج آپ ان کلاسوں میں حاضر ہو رہے ہیں جہاں ایک نسل جو آپ سے کچھ عرصہ قبل ان پسندیدہ بینچوں پر بیٹھی تھی، وہ اب وطن اور قومی عزت کے تحفظ کے مختلف محاذوں پر ایران اسلامی کے لیے عزت و اقتدار کی داستانیں رقم کر رہی ہے اور وہی آپ کے لیے نمونہ عمل اور مشعل راہ ہیں جیسا کہ ان سے پہلے انہی کلاسوں میں ایسے لوگ تھے جو فداکاری کے مثالیہ ، ملک کی عظمت کی علامتیں اور بزرگواری کے میدان میں افسانوی حیثيت کے حامل رہے ہیں۔
آخری بات معلمین اور اساتذہ کے بارے میں ہے۔ ہم سب تعلیمی دور کے ہر مرحلے میں ، اپنے اساتذہ کے مقروض ہیں، ان پیارے اور محبوب اساتذہ کا، جن کے سامنے اکثر ان کے شاگرد پرخلوص جذبات کا اظہار کرتے ہيں، یہ حق ہے کہ مختلف اجتماعات اور مواقع پر ہم سب کی جانب سے ان کی عزت کی جائے ۔ وہ بے نیازی اور قناعت جو عام طور پر ان میں دیکھی جاتی ہے، معاملے کے ذمہ داروں کو ان کی موجودہ معاشی صورتحال سے مطمئن کرنے کی وجہ نہيں بن سکتی اور ان شاء اللہ حکیمانہ منصوبہ بندی کے ساتھ ان کی بہتری کے لیے مؤثر کوشش کی جائے گی خاص طور پر اس لئے بھی کہ یہ معاملہ قانونی ذمہ داری کی انجام دہی سے بڑھ کر ایک ایسا کام ہے ہے جس کے لئے دل سے آواز نکلتی ہے۔
اللہ کی طرف سے اساتذہ پر سلامتی نازل ہو اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے شہید طلبہ و طالبات پر اللہ کی رحمت ہو اور ان میں سرفہرست ہمارے حکیم رہبر اور عظیم الشان مربی شہید اعلی اللہ مقامہ ہیں جن کا ملک میں علم کی تیز رفتار پیش رفت میں بڑا رول ہے اور میں شکریہ ادا کرتا ہوں علم و دانش اور دین کے میدان کے تمام مربیوں، معلمین اور اساتذہ کا اور مبارکباد دیتا ہوں اور خوش آمدید کہا ہوں ایرانی قوم کے ایک ایک عاقبت بخیر طالب علم و طالبہ کو اور امید ہے کہ وہ امام زمانہ، عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی بابرکت دعاؤں کے سائے میں علم و ادب اور ترقی کی چوٹیوں تک پہنچنے میں اور بھی کامیاب ہوں گے، ان شاء اللہ۔