-
امریکی دباؤ، ایرانی مزاحمت اور بدلتا عالمی نظام
- سیاسی
- گھر
امریکی دباؤ، ایرانی مزاحمت اور بدلتا عالمی نظام
18
M.U.H
20/02/2026
0
0
تحریر:عادل فراز
امریکہ کی جانب سے سخت بیانات اور جنگ کی دھمکیوں کے درمیان ایران سے مذاکرات جاری ہیں ۔مذاکرات کا پہلادوراستنبول میں ہوناتھامگر بوجوہ یہ عمان میں ہوا۔ دوسرا دور جنیوا میں منعقد ہواجس میں مثبت پیش رفت دیکھی گئی ۔مذاکرات کے پہلے دور سے واضح ہوگیاتھاکہ ایران اپنے شرائط اور قومی مفاد سے ہرگز دست بردار ہونےوالانہیں ہے ۔اس سے پہلے۲۰۲۵ میں عمان کی ثالثی میں مذاکرات کے چھ ادوار ہوئے جن کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام پر ایک لایحۂ عمل طے کرناتھامگر کامیابی نہیں ملی ۔مذکرات کا دوسرا سلسلہ فروری ۲۰۲۶ میں شروع ہواجس کے تحت عمان ،استنبول اور جنیوا میں مذاکرات ہوئے ۔جنیوا میں ہونے والی بات چیت کو ایران نے بھی تعمیری قراردیا۔ مذاکرات کے تیسرے دور کا ابھی اعلان نہیں ہوا۔ایران نے واضح طورپر کہاہے کہ مذاکرات صرف جوہری مسائل پر مرکوز رہیں گے دیگر مسائل کو زیر بحث نہیں لایاجائے گا۔امریکہ کا مسئلہ ایران کی جوہری توانائی نہیں ہے اور نہ ایران کے میزائیل پروگرام کو محدود کرنے میںکوئی حکمت پوشیدہ ہے ۔امریکہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی چاہتاہے کیونکہ بغیر اقتدار کی تبدیلی کے امریکی مطالبات اور اہداف پورے نہیں ہوسکتے ۔امریکہ کی پریشانی موجودہ حکومتی نظام بھی نہیں ہے بلکہ وہ ’ولایت فقیہ کے نظام ‘ سے خوف زدہ ہے۔کیونکہ جب بھی امریکہ کی طرف سے دھمکیاں دی جاتی ہیں تو وہ منتخب حکومت کے بجائے ’ولی فقیہ ‘ یعنی آیت اللہ خامنہ ای کو دی جاتی ہیں ۔اس کی بنیادی وجہ نظام ولایت کا وہ نظریۂ حکومت ہے جس میں خداکے علاوہ دوسری طاقتوں کے سامنے سرجھکانے کا تصور موجود نہیں ۔
ایران کے ساتھ استعماری طاقتوں کی لڑائی نظریے کی ہے ۔ایران کا نظریہ ہے کہ تسلیم صرف خداکے سامنے ہے ،خداکے علاوہ کسی طاقت کے سامنے سرنہیں جھکایاجاسکتا ۔امریکہ چاہتاہے کہ دنیا کا ہر ملک اس کے سامنے سجدہ ریز رہے ۔اس کی ہاں میں ہاں ملائے ۔اس کے سیاہ وسفید پر آنکھیں موندے رہے ۔اس کے جرائم پر سوال نہ اٹھائے ۔وہ چاہتاہے کہ دنیا کے تمام قدرتی منابع اور ذخائراس کے زیر استعمال رہیں ۔وہ جب جس ملک میں چاہے داخل ہوجائے ۔جس حکومت کا تختہ چاہے پلٹ دے ۔جس حکمران کو جب چاہے اغواکرلے ۔گویاکہ ہر ملک میں اس کا منتخب کردہ حاکم اقتدار میں ہو،جو اس کے سامنے دم ہلاتارہے ۔ یہ وفاداری بھی زندگی اور اقتدار کی بقا کے لئے کافی نہیں ۔اگر ایساہوتاتو امریکہ اپنے وفادار حکمرانوں کو کبھی ختم نہیں کرتا۔ان کی حکومتوں کو گرادیاگیااور آج ان ملکوں میں اس کے فوجی اڈے موجود ہیں ۔امریکہ کے مطالبات کو تسلیم کرنے کا مطلب ہے اپنی خودمختارانہ حاکمیت پرضرب لگانا۔وہ مکمل بیعت چاہتاہے جس کا مطالبہ بارہ روزہ جنگ کے دوران بھی ایران سے مسلسل کیاجاتارہا۔ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے اس وقت بھی کہاتھاکہ ’مکمل تباہی یا غیر مشروط سرینڈر‘۔اگر غیر مشروط سرینڈر اتنا آسان ہوتاتو آج امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز نہیں ہوتا۔استعماری اور استکباری طاقتیں کبھی کمزوروں کے ساتھ مذاکرات نہیں کرتیں ۔ان کی تاریخ بھی یہی ظاہر کرتی ہے ۔اگر مذاکرات سے مسائل کرنے میں امریکی دلچسپی ہوتی توپھر وینزویلا کے صدر مادروکے ساتھ مذاکرات کیوں نہیں ہوئے ؟اس سے پہلے صدام حسین کے ساتھ بھی مذاکرات کو ترجیح نہیں دی گئی ۔لیبیا اور افغانستان کو گفتگو کی مہلت نہیں ملی ۔حال ہی میں شام کے اقتدار کا تختہ الٹ دیاگیااور بشارالاسدکے ساتھ مذاکرات نہیں ہوئے ۔یہی صور تحال لبنان میں کارفرماہے اور اسی آمریت کا شکار پہلے یمن ہوچکاہے ۔مختصر یہ کہ امریکہ اور اس کے حلیف ملک کبھی کمزوروں سے مذاکرات نہیں کرتے بلکہ جنگ کو ترجیح دیتے ہیں ۔مگر ایران سے ’غیر مشروط سرینڈر ‘ اور ’اقتدار کی تبدیلی ‘ کی دھمکیوں کے باوجود آج امریکہ مذاکرات کی میز پر ہے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ بھی ایران کی طاقت کو تسلیم کرچکاہے ۔جنگ تو طاقت وروں کےدرمیان بھی ہوتی آئی ہےاور آئندہ بھی ہوتی رہے گی ۔جنگ کبھی میدان میں فتح وشکست کے معیار طے نہی کرتی ،بلکہ مقصد کی بقا اور اہداف کی تکمیل جنگ میں فتح وشکست کا معیار طے کرتی ہے ۔
امریکہ ہمیشہ دوسرے ملکوں کے معاملات میں مداخلت کو اپنا حق سمجھتارہاہے ۔البتہ ٹرمپ کے دور اقتدار میں دھمکیوں اور جنگ کی پالیسی نےزیادہ شدت اختیار کرلی ۔جب کہ ٹرمپ سے پہلے کے امریکی صدر بھی امن کے خواہاں نہیں تھے ۔بل کلنٹن ،جارج بش ،براک اوباما اور بائیڈن کے زمانے میں بھی امن اور استحکام قائم نہیں رہا۔خاص طورپر جارج بش کے زمانے میں زیادہ سیاسی افراتفری دیکھی گئی ۔ٹرمپ چونکہ ایک تاجر ذہنیت کا حامل ہے اس لئے وہ ہر ملک سے تعلقات کو اسی تاجرانہ ذہنیت کے تناظر میں دیکھتاہے ۔تاجرانہ ذہنیت کبھی کسی کے ساتھ دیرپا تعلقات قائم نہیں رکھ پاتی ۔اس کے پیش نظر ہمیشہ اپنا مفاد رہتاہے ۔یہ مفاد کبھی بہت بڑاہوتاہے اور کبھی مختصر ۔تعلقات بھی مفاد کے معیار پر منحصر ہوتے ہیں ۔ٹرمپ اپنے اس دور اقتدار میں خالص تاجرانہ ذہنیت کے ساتھ میدان میں ہے ۔وہ کمزور ملکوں پر قبضہ کرکے ان کے معدنیات اور ذخائر پر قبضہ کرناچاہتاہے تاکہ اس کا براہ راست فائدہ امریکہ کو پہنچ سکے ۔جن ملکوں پر حملہ کرنا آسان نہیں ان پر تجارتی دبائو بڑھایاجارہاہے ۔خاص طوپر ہندستان پر عائد کردہ اضافی تجارتی ٹیرف کو اسی تناظر میں دیکھاجاسکتاہے جس کی نظیر ماضی میں نہیں ملے گی۔ایک طرف امریکہ نے ہندستان پر اضافی ٹیرف عائد کیادوسری طرف ’ہندستان اور پاکستان جنگ ‘ کے مسائل کے ذریعہ اپنی بالادستی ظاہر کرنے کی کوشش کی ۔ٹرمپ اب بھی مسلسل کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ انہوں نے تجارت کی بنیاد پر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کروائی ۔وہ مسلسل الگ الگ طرح کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں جس سے ان کی ’صارفی ذہنیت‘ کا اندازہ ہوتاہے ۔چونکہ ’آپریشن سیندور ‘ کے بعد پاکستان امریکی گود میں کھیل رہاہے لہذا ٹرمپ اس طرح کے بیانات دے کر ہندستان پر دبائو بناکے کی کوشش کررہاہے ۔خاص طورپر ’روس یوکرین جنگ‘ کے تناظر میں ہندستان پر روس سے تیل کی قوت خرید کم یا ختم کرنے کا مطالبہ کیاجارہاہے جب کہ ہندستان مسلسل کہہ رہاہے کہ وہ اپنے ملکی مفاد کے پیش نظر تجارتی فیصلے کرے گا۔لیکن ٹرمپ کی ہرزہ سرائی جاری ہے ،جس سے اندازہ ہوتاہے کہ امریکی صدر صرف اور صرف ’صارفی ذہنیت ‘ کاآدمی ہے ۔اس کو ہرحال میں اپنا مفاد عزیز ہے جس کے لئے وہ کسی بھی حد تک جاسکتاہے ۔اس حقیقت کو ہندستان سمیت تمام خودمختار ملکوں کو سمجھناہوگاورنہ ان کی عالمی حیثیت برباد ہوجائے گی ۔کیونکہ امریکہ کی دوستی اچھی ہے اور نہ دشمنی ۔
ایران کے ساتھ جنگ کا خدشہ ابھی ختم نہیں ہوا ۔ممکن ہے دونوں طاقتوں کے درمیان معاہدہ طے پاجائے ۔لیکن عدم توافق کی صورت میں جنگ ناگزیر ہے ۔امریکہ کے جنگی بیڑے ایران کے ساحلوں کے قریب ہیں ۔اس کے باوجود ایران نے ذرہ برابر خوف کا مظاہرہ نہیں کیا۔آیت اللہ خامنہ ای نے تو اپنے خطاب میں واضح طورپر کہاکہ اگر جنگ ہوتی ہے یہ جنگ عالمی ہوگی علاقائی نہیں ۔حال ہی میں انہوں نے کہاکہ ’بحری بیڑا(امریکی جنگی جہاز من جملہ ابراہم لنکن جو ایرانی پانیوں کے قریب ہیں)ایک خطرناک وسیلہ ہے لیکن اس سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اس بیڑے کو سمندر کی تہہ میں غرق کرسکتاہے ۔‘آیت اللہ خامنہ ای کے یہ جملے ان کے اطمینان اور ملت ایران کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں ،جس سے دشمن خوف زدہ ہے ۔امریکہ کو معلوم ہے کہ اگرجنگ شروع ہوتی ہے تو یہ ہرگز علاقائی نہیں ہوگی ۔اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے کی فکر میں امریکہ اپنی رہی سہی ساکھ کو ہرگز دائو پر نہیں لگائے گا۔جنگ امکانی ہے مگر اس کے نقصانات دائمی ہوں گے ۔خلیج فارس میں تیل کی رسد متاثر ہوگی ۔اسرائیل اور خلیجی ریاستیں براہ راست جنگ کی زد میں آئیں گی ۔علاقے میں عدم استحکام بڑھے گاجس کا اندازہ روس،چین ،ہندوستان اور دیگر ملکوں کو بھی ہے ۔عرب ملک گوکہ امریکہ اور اسرائیل کے حلیف ہیں ،اس کے باوجود وہ بھی جنگ کے حامی نہیں ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ جنگ کی آگ ان کے دامن تک بھی پہنچے گی ۔جنگ کی صورت میں امریکہ کا داخلی نظام بھی متاثر ہوگا۔امریکہ میں تیل کی قیمتیں اور مہنگائی انتخابی مسئلہ ہیں ۔عوام ہردور صدارت کی نئ نئی جنگوں سے اوب چکے ہیں ۔امریکی کانگریس میں بھی جنگ پر مکمل اتفاق رائے نہیں ۔اسی بنیاد پر امریکہ نے سفارت کار ی کا ڈھونگ رچاہے تاکہ وہ یہ تاثر دے سکے کہ امریکہ جنگ کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیتاہے ۔البتہ سب سے موثر عنصر امریکی بالادستی پر کاری ضرب کا اندیشہ ہے ۔کیونکہ جنگ کی صورت میں امریکہ کی عالمی ساکھ دائو پر ہوگی جس کا تحفظ آسان نہیں ہوگا۔یوں بھی یک قطبی نظام کی جڑیں اکھڑچکی ہیں اور دنیا کثیر قطبی نظام کی طرف دیکھ رہی ہے ۔ایسی صورت حال میں جنگ کا ہونا امریکی بالادستی کے خاتمے کا آغاز ہوگا،جس سے امریکہ بھی گھبرایاہواہے ۔دوسری وجہ ایران کا اطمینان ہے جس نے عالمی تشویش میں اضافہ کردیاہے ۔