-
انگریزی ذریعہ تعلیم اور نوآبادیاتی ذہنیت کے مخالفین کی حقیقت
- سیاسی
- گھر
انگریزی ذریعہ تعلیم اور نوآبادیاتی ذہنیت کے مخالفین کی حقیقت
22
M.U.H
31/12/2025
0
0
تحریر:رام پنیانی
رام ناتھ گوئنکا لکچر دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے حسب روایت نوآبادیاتی ذہنیت کی مخالفت کی اور اس بات کے عہد پر زور دیا کہ دس برسوں میں ملک سے نوآبادیاتی ذہنیت کا خاتمہ کردیا جائے گا ۔ ایک طرح سے انہوں نے اندرون 10 برس نوآبادیاتی ذہنیت کے خاتمہ کے عہد کی اپیل کی ۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ لارڈ تھامس بابنگٹن مکاولے نے ہندوستان میں انگریزی میڈیم تعلیم متعارف کروائی تھی جس کے 200سال مکمل ہوں گے ۔ مودی کے مطابق مکاولے کے پراجکٹ یا منصوبہ کا مقصد ہندوستانی سوچ و فکر کو اس طرح تبدیل کرنا تھا کہ دیسی نظام تعلیم کو ختم کر کے ہندوستان میں نوآبادیاتی نظام تعلیم نافذ کیا جائے تاکہ ایسے ہندوستانی پیدا کئے جاسکیں جو صورت شکل اور دیکھنے میں ہندوستانی ہوں لیکن ان کی سوچ و فکر برطانوی ہو ۔ مودی کے بقول اس سے یہ ہوا کہ ہندوستان کی پراعتمادی ٹوٹ پھوٹ گئی اور ایک احساس کمتری پیدا ہوئی ( انڈین ایکسپریس کی اشاعت مورخہ 18 نومبر 2025) اگر مودی کے ان ریمارکس کا بغور جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے یہ بیانات راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس ) اور ہندو توا قوم پرستی کی وسیع تر نظریاتی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں ۔ ہم ذکر کررہے ہیں جدوجہد آزادی کا ملک کی آزادی کیلئے مہاتما گاندھی اور دوسرے مجاہدین کی قیادت میں ہندوستانی انگریزوں کی غلامی کے خلاف لڑرہے تھے اور آج نوآبادیاتی سوچ و فکر کو ختم کرنے کا عہد کرنے والوں کے نظریاتی آباواجداد آزادی کی لڑائی سے دوری اختیار کئے ہوئے تھے ۔
مکاولے کی وراثت کے متضاد نقطہ نظر : دلچسپی کی بات یہ ہیکہ مودی نے جہاں ہندوستان کی ساری خرابیوں اور برائیوں کیلئے لارڈ تھامس باپنگٹن مکالے کو ذمہ دار قرار دیا ہے وہیں چندر ابھیان پرساد جیسے کئی دلت دانشوروں و مفکرین نے مکاولے کو ہندوستان میں ایسی تعلیمی بنیادیں رکھنے کا کریڈٹ دیا ہے جس نے دلتوں اور دیگر محروم گروپوں کیلئے وقار احترام اور مساوات کیلئے عملاً جدوجہد کے قابل بنایا ۔ہندوستان میں مکاولے کی جانب سے انگریزی ذریعہ تعلیم متعارف کروانے کے نتیجہ میں ہی دلت اور دوسرے پسماندہ طبقات اپنے لئے عزت و وقار اور مساوات کیلئے لڑنے کے قابل ہوئے ، ورنہ انہیں ذات پات پر مبنی تعصب و جانبداری کی وکالت کرنے والوں نے پوری طرح اپنا غلام بنا رکھا تھا ۔ ماضی میں جنہیں تعلیم تک رسائی کی اجازت نہیں تھی خاص طور پر دلتوں اور خواتین کو حصول علم کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں تھی جبکہ قدیم گروکل نظام میں تعلیم صرف اعلیٰ ذات کے مردوں تک محدود تھی ، دلت دیگر کمزور طبقات اور خواتین تعلیم حاصل کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے ۔
ہندوستان کی روایتی تعلیم سشروتا ، آریہ بھٹ ، برہما گیتا ، لوکاپت روایت اور بھاسکر اسے لیکر معاشرہ کو مالا مال کرنے اور عصری سائنسی فہم کو آگے بڑھانے کا سبب بنی لیکن یہ علم بھی پوری طرح معاشرہ کے اشرافیہ یعنی اعلیٰ ذات والوں کے کنٹرول میں تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ طاقت اور دولت چند افراد تک محدود ہوکر رہ گئی ۔ یہ بالکلیہ صحیح ہیکہ لارڈ مکاولے کا مقصد سلطنت برطانیہ کیلئے خدمات انجام دینے دفتری عملہ یا افرادی قوت کو تیار کرنا تھا لیکن یہ بھی سچ ہیکہ Rudyard Kepling جیسی شخصیتوں نے سفید فام کا بوجھ قرار دے کر نوآبادیات کی تائید و حمایت کی تھی ۔ نہرو نے بعد میں یعنی آزادی کے فوری بعد اپنے تاریخی خطاب Tryst with Destiny میں ہندوستان اور ہندوستانیوں کی خواہشات و اُمنگوں کی بھرپور ترجمان کی اور دنیا کو واضح طور پر بتایا کہ ہندوستانی کیا چاہتے ہیں ۔
نوآبادیادتی نظام تعلیم نے ہندوستانی شناخت کی بازیافت کی ، انگریزی نے علاقائی زبانوں کو کیا دیا ، ان کی اہمیت کم کی؟ تاریخ اس کے برعکس بتاتی ہے ۔ ہندوستانی دانشوروں و مفکرین نے کبھی بھی برطانوی پالیسیوں کو بلا چوں و چراں قبول نہیں کیا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ عالمی نظریات سے وابستگی کے نتیجہ میں عصری نظام تعلیم مزید مالا مال ہوئیے ، لسانی تنظیم نو کے بعد علاقائی زبانوں اور روایتی علم کو زیادہ گنجائش حاصل ہوئی ۔ باالفاظ دیگر روایتی علم کو بھی زیادہ استحکام حاصل ہوا لیکن تعلیمی فکر سے ہندوستان کے تعلق نے گہرے طور پر جم چکی ذات پات اور صنفی درجہ بندیوں کو بھی سنجیدہ چیلنج دیا ۔ اس طرح جدید تعلیم نے اپنی چند خامیوں کے باوجود تاریخی طور پر حاشے پر لائے گئے طبقات کیلئے مساوات اور انصاف کے راستے کھولے ۔ ماضی میں یہ طبقات بالکلیہ طور پر نظر انداز کردیئے گئے تھے ، انہیں اس قابل ہی نہیں سمجھا گیا کہ وہ زیور تعلیم سے آراستہ ہوں ۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کا شمار دنیا کے بہترین ماہرین اقتصادیات میں ہوا کرتا تھا ۔ ان کے دیہانت کے بعد آج بھی لوگ ان کی پروقار شخصیت اور قابلیت کے متعارف ہیں ۔ اگر ہم ششی تھرور اور آنجہانی ڈاکٹر منموہن سنگھ کے نقاط نظر کا تقابل کریں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دونوں کے نقاط نظر اپنی اپنی جگہ درست ہیں ۔ سب سے اہم بات یہ ہیکہ نوآبادیات نے غیر شعوری طور پر جدید لبرل اقدار یا فراخدلانہ اقدار اور انتظامی اصلاحات کی بنیاد رکھی اور انہی اقدار نے آزادی کی تحریک کو سہارا دیا ، یہ وہ تحریک یا جدوجہد تھی جس میں بلالحاظ مذہب و ملت رنگ و نسل ، ذات پات تمام ہندوستانیوں نے متحدہ طور پر انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد کی اور ہندوستانیوں کو اپنے غیر معمولی اتحاد و اتفاق کا آزادی کی شکل میں صلہ بھی ملا ۔ ان ہندوستانیوں کے برعکس نوآبادیاتی سوچ و فکر اور خاص طور پر انگریزی ذریعہ تعلیم کے موجودہ مخالفین کے نظریاتی آباواجداد نے اپنے آپ کو پوری طرح نوآبادیات کے خلاف جدوجہد سے دور رکھا ، الگ تھلگ رکھا ۔ اس معاملہ میں ممتاز مورخ اور آر ایس ایس کی سوچ و فکر اور پالیسیوں پر گہری نظر رکھنے والے ادیب شمس الاسلام ، ایم ایس گولوالکر سے ایک چونکا دینے والا بیان نقل کرتے ہیں جس میں گولووالکر کہتے ہیں کہ ہندوؤں، انگریزوں کے خلاف لڑنے اور جدوجہد کرنے میں اپنی توانائی ضائع مت کرو بلکہ اپنی توانائی اپنے داخلی دشمنوں مسلمانوں ، عیسائیوں اور کمیونسٹوں سے لڑنے کیلئے بچائے رکھو ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کولوالکر کا نظریہ نوآبادیاتی ذہنیت کے خلاف مزاحمت کی بجائے فرقہ وارانہ دشمنی کو ترجیح دیتا ہے ۔
(مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)