لوک سبھا میں اسپیکر اوم برلا کو ہٹانے کی تحریک پیش، بحث کے لیے 10 گھنٹے مقرر
14
M.U.H
10/03/2026
نئی دہلی: لوک سبھا میں منگل کے روز اس وقت سیاسی گرما گرمی دیکھنے کو ملی جب کانگریس کی جانب سے اسپیکر اوم برلا کو عہدے سے ہٹانے کے لیے تحریک پیش کی گئی۔ تحریک پیش ہوتے ہی ایوان میں قواعد و ضوابط کو لے کر حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان تیز نوک جھونک شروع ہوگئی، تاہم بعد میں ایوان نے اس تحریک پر بحث کی اجازت دے دی اور اس کے لیے مجموعی طور پر دس گھنٹے مقرر کیے گئے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے باضابطہ طور پر یہ تحریک پیش کی۔ اس تحریک پر اپوزیشن کے 118 ارکان پارلیمنٹ کے دستخط موجود ہیں۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اسپیکر اوم برلا نے ایوان کی کارروائی کے دوران غیر جانبدارانہ طرز عمل اختیار نہیں کیا اور بعض مواقع پر حکمراں جماعت کے حق میں جھکاؤ ظاہر کیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے اپوزیشن میں ناراضی پیدا ہوئی۔
تحریک پیش ہونے کے بعد ایوان میں ایک نیا آئینی اور ضابطہ جاتی سوال بھی سامنے آیا۔ بحث اس بات پر ہونے لگی کہ جب اسپیکر کو ہٹانے کی تحریک زیر غور ہو تو اس دوران ایوان کی کارروائی کی صدارت کون کرے گا۔ اس وقت ایوان کی کارروائی بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال کی صدارت میں چل رہی تھی۔
اس معاملے پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی اور ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سوگت رائے نے پوائنٹ آف آرڈر اٹھایا۔ اسدالدین اویسی نے پارلیمانی قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب اسپیکر کے خلاف تحریک زیر بحث ہو تو اسپیکر یا ان کی جانب سے نامزد کیا گیا رکن ایوان کی کارروائی کی صدارت نہیں کر سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب تک لوک سبھا میں ڈپٹی اسپیکر کی تقرری نہیں کی گئی ہے۔ ایسے میں جو رکن اس وقت چیئر پر موجود ہیں انہیں اسپیکر کی منظوری سے نامزد کیا گیا ہے، اس لیے ان کے ذریعے اس تحریک پر بحث کرانا مناسب نہیں ہوگا۔ اویسی نے یہ بھی تجویز دی کہ بحث شروع ہونے سے پہلے ایوان کو اس بات پر اتفاق کر لینا چاہیے کہ کارروائی کی صدارت کون کرے گا۔
اس کے جواب میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے بھی وضاحت پیش کی گئی۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے کہا کہ پارلیمانی قواعد کے مطابق چیئر پر بیٹھا کوئی بھی رکن اسپیکر کے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کارروائی چلا سکتا ہے۔
مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے بھی نشی کانت دوبے کے موقف کی تائید کی اور کہا کہ قواعد چیئر کو کارروائی چلانے کا واضح اختیار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ایوان کی کارروائی کو ضابطے کے مطابق آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب تک ڈپٹی اسپیکر کی تقرری نہیں کی گئی جو ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحث آگے بڑھانے سے پہلے ایوان کو یہ طے کرنا چاہیے کہ کارروائی کی صدارت کون کرے گا تاکہ کسی بھی قسم کی آئینی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
اس دوران بی جے پی کے سینئر رکن پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے بھی مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ جو رکن اس وقت چیئر پر موجود ہے اسے ایوان کی کارروائی چلانے کا مکمل اختیار حاصل ہے اور قواعد کے مطابق کارروائی جاری رکھی جا سکتی ہے۔
دونوں جانب سے دلائل سننے کے بعد ایوان کی صدارت کر رہے جگدمبیکا پال نے کہا کہ اسپیکر کا عہدہ خالی نہیں ہے، اس لیے چیئر کو کارروائی چلانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسپیکر اوم برلا نے خود فیصلہ کیا ہے کہ اس بحث کے دوران وہ ایوان کی صدارت نہیں کریں گے۔
جگدمبیکا پال نے مزید کہا کہ اسپیکر نے تحریک کے نوٹس میں موجود ابتدائی تکنیکی خامیوں کو درست کرنے میں فراخ دلی کا مظاہرہ کیا اور ضروری اصلاحات کے بارے میں خود اطلاع جاری کی۔ اس کے بعد کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے باضابطہ طور پر اسپیکر کو ہٹانے کی تحریک ایوان میں پیش کی۔
آخرکار ایوان میں اتفاق کے ساتھ یہ طے کیا گیا کہ اسپیکر اوم برلا کو عہدے سے ہٹانے کی تحریک پر لوک سبھا میں مجموعی طور پر دس گھنٹے تک بحث ہوگی، جس کے دوران مختلف جماعتوں کے ارکان اپنی رائے پیش کریں گے۔