-
مذاکرات کافریب دے کر ایران پر حملہ
- سیاسی
- گھر
مذاکرات کافریب دے کر ایران پر حملہ
10
M.U.H
08/03/2026
0
0
تحریر:رویش کمار
ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ بلند بانگ دعوے کررہے ہیں اور دنیا کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ہم ایران کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے ۔ وہ دوبارہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی جرأت نہیں کرے گا لیکن دوسری جانب ایران بھی اسرائیل اور امریکہ کو منہ توڑ جواب دینے کے معاملہ میں پیچھے نہیں ہے۔ بہرحال امریکہ نے سعودی عرب اور کویت میں اپنے سفارتخانہ بند کردیئے اور اپنے شہریوں سے کہا کہ فوری نکل جائیں ۔ سعودی عرب میںامریکی سفارت خانہ پر ڈرون حملہ ہوا اور جہاں امریکی عہدیدار رہتے ہیں ، وہاں بھی حملہ کیا ۔ امریکہ نے اپنے شہریوں سے کہا کہ وہ شلٹرس میں پناہ لے لیں ۔ امریکہ نے ہاتھ کھڑے کردیئے ہیں کہ وہ یروشلم سے اپنے شہریوں کو نہیں نکال سکتا ۔ اگر اسرائیل کی مدد سے امریکی نکلنا چاہتے ہیں تو ان کے تحفظ کی گیارنٹی امریکہ نہیں دے گا ۔ یہ امریکہ کے سفارتخانہ نے کہا کہ بحرین میں ایران نے امریکی فضائی اڈوں پر حملہ کردیا ، حملہ سے پہلے امریکہ نے اپنے بحری بیڑوں کو ہٹالیا تھا لیکن تب بھی اس اڈہ کی بربادی امریکہ کو راس نہیں آئے گی اور ا سکی ساکھ کو گہرا دھکہ پہنچے گا ۔ بحرین سے خبر یہ ہے کہ وہاں کی شیعہ آبادی سڑکوں پر اتر کر ایران کی تائید و حمایت میں نعرے لگارہی ہے ۔ بحرین میں بغاوت کی حالت پیدا ہوگئی ہے ۔ امریکہ کے فضائی اڈوہ پر ایران کے حملہ کا وہاں خیرمقدم ہورہا ہے ، جشن منانے والوں کی گرفتاری کی خبریں آرہی ہیں ۔ امریکہ نے اپنے ملک سے باہر قطر ، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں بڑے فوجی اڈے بنائے تھے ، لیکن اس کے بعد بھی وہ نہ تو ایران سے اپنا تحفظ کرپارہا ہے ، نہ ان ملکوں کا تحفظ کرپارہا ہے ۔ کویت کے فوجی اڈوں پر ایران کے حملوں میں امریکہ کے 6 سپاہی مارے گئے ۔ ایران نے عرب ملکوں پر دھواں دھار حملے کئے ہیں مگر جواب میں عرب ملکوں نے کوئی حملہ نہیں کیا ۔ حملے کے چوتھے دن اس بات پر حیرت جتائی جارہی ہے لیکن اس کا جواب اس بات میں ملتا ہے کہ عرب ملکوں کی زمین پر امریکہ کے بڑے بڑے فوجی اڈے کس کام کے ۔ امریکہ ان کی زمین سے لڑرہا ہے تو حملہ عرب ملک کیوں کریں ، انہیں اس بات کی فکر بھی نہیں کہ امریکہ ان کی حفاظت نہیں کرپارہا ہے ۔ عرب ملکوں کی ایک اور تشویش یہ ہوگی کہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے یہاں کی شیعہ اور سنی آبادی ملکر ان کی شاہی حکمرانی کے خلاف نہ ہوجائیں اور اگر ایسا ہوگیا تو انہیں ایران کے ساتھ ساتھ اپنے ملکوں میںایران کے اثر سے بھی لڑنا ہوگا ۔ ایران شروع سے ہی عرب ملکوں کی حکومتوں کو نشانہ بناتا رہا ہے اور کہتا رہا ہے کہ اسلام میں بادشاہت کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اکیلے ایران نے کئی ملکوں پر حملہ کر کے دکھایا ہے کہ صرف امریکہ پر عرب ملکوں کا بھروسہ کرنا خطرہ سے خالی نہیں ۔ 3 مارچ کی تمام خبروں سے کم سے کم یہی لگ رہا ہے کہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد بھی ایران بھاری پڑنے لگا ہے یا پھر اسے ایسے بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ایران تباہی کو جھیلتے ہوئے بھی اپنی طاقت کا احساس دلا رہا ہے ۔ چوتھے دن امریکہ کے پاس دکھانے کیلئے یہی ہے کہ اپنے سفارتخانہ کو بند کردیا ، حملے کے وجوہات کو یہاں وہاں متنقل کررہا ہے ۔ اسرائیل اور امریکہ دونوں ملکر 150 سے زائد ایرانی شہروں پر حملہ کرچکے ہیں ، ایک ہزار سے زائد ایرانی شہید ہوچکے ہیں ۔ ایران کے منہاب شہر میں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کا باہر آنا دنیا اور امریکہ کیلئے چیلنج ہے کہ یہاں کے لوگ اس کے بم دھماکوں سے نہیں ڈرے ۔ منہاب شہر میں 162 سے زائد طالبات کے جنازوں میں اس قدر کثیر تعداد میں لوگ امڈ پڑے ۔ 28فبروری کو لڑکیوں کے پرائمری اسکول پر بم گرایا گیا ۔ مرنے والوں کی تعداد کہیں 150 ہے کہیں 180 بھی بتائی جارہی ہے اور ان کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لڑکیو ں کی قبر کی تصویریں ٹوئٹ کی اور کہا کہ یہ ان 162 معصوم بچیوں کے قبروں کی تصویر ہے جن کا قتل امریکہ اور اسرائیل نے کیا ۔ ان تمام بچیوں کے جسم کے چیتھڑے اڑ گئے ۔ مسٹر ٹرمپ ایران کی عوام کو بچانے کا دعویٰ کررہے تھے ، وہ غزہ سے لیکر منہاب تک ایسا لگ رہا ہے اور قبروں کی تصویر دکھاتے ہیں ۔ امریکہ کے کیلیفورنیا ریاست کے گورنر گیاوین نیوسم نے سوال کیا کہ اسرائیل کے بم ہوں یا امریکہ کے بم لڑکیوں کے اسکول پر کیوں گرائے گئے ۔ ایسا کر کے امریکہ کے فوجیوں اور شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ میں ڈال دیا گیا ہے ۔ یونسکو نے اس حملہ کو انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی بدترین خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔ اقوام متحدہ نے اس معاملہ میں تحقیقات کی ہدایات جاری کی ہے ۔ اسرائیل نے اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنایا ، بڑی تعداد میں ڈاکٹروں اور صحافیوں کو قتل کیا ۔ اب 162 سے بھی زائد بچیوں کے اسکول پر بم گرایا گیا ۔ یاد رکھنا چاہیئے کہ ایران اسرائیل سے 75 گنا بڑا ہے ۔ ایران کی وزارت خارجہ نے پھر سے کہا ہے کہ امریکہ سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے ۔ ایران کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے بات چیت کا دعویٰ کیا مگر ایران کے سوالات کے آگے جھک گئے اور فوجی حملہ کرنے لگے ایسے لوگوں پر لعنت ہے ۔ اب ایران صرف اپنی سلامتی کو ملحوظ رکھے گا اور اس پر ساری توجہ مرکوز کردے گا ۔ مغربی میڈیا اسرائیل کی طرفداری کرتا ہے ، اسرائیل کے شہروں میں اس کے اڈے ہیں ، کم سے کم تل ابیب کی سڑکوں سے رپورٹنگ کرتا اور دکھاتا کہ ایران کے میزائلوں نے تل ابیب کو کتنا نقصان پہنچایا ہے ۔ ایران کے میزائلوں نے تل ابیب سے لیکر قطر کے آسمانوں کو روشن کردیا ہے ۔ 45 برسوں کی پابندی کے بعد ایران اپنے ہتھیار خود بنانا سیکھ گیا ہے ، وہ بنا کسی کی مدد کے میزائلس بناتا ہے اور لانچ کردیتا ہے ۔ اسرائیل اور امریکہ یہ بات اپنے لئے نہیں کہہ سکتے ، ان کے ہتھیاروں کی سپلائی کئی ملکوں کے کردار پر منحصر ہے ۔ ایران کی ایک ایک میزائل امریکہ کے جیٹ کو گراسکتی ہے لیکن امریکہ اس کی بھرپائی اتنی جلدی نہیں کرسکتا جتنی جلدی ایران کرلے گا ۔ ایران کے ہتھیار امریکہ سے کئی گنا سستے بھی ہیں ۔ مغربی میڈیا اپنی رپورٹنگ میں اسرائیل کی ٹیکنیکی اوردوسری صلاحیتوں کو ثابت کردیتا ہے ۔ بچکانی کہانیاں بناتا ہے کہ سی سی ٹی وی ہیک کر کے خامنہ ای کو نشانہ بنایا گیا ۔ ان کا ڈیٹا تیار کیا گیا لیکن خامنہ ای کا دفتر کہاں ہے ؟ دنیا میں یہ سب کو معلوم ہے وہ اپنے دفتر سے بھاگے نہیں بلکہ میزائلوں کا جوانمری کے ساتھ مقابلہ کیا ۔ کیا کوئی بھی لیڈر آج کی تاریخ میں اس طرح شہید ہوسکتاہے ۔ نیتن یاہو کے ہی بنکر میں چھپنے کی کتنی خبریں منظر عام پر آجاتی ہیں ۔ خامنہ ای کی شہادت اور بچیوں کے قتل نے ایران کو متحد کردیا ہے ۔ ٹرمپ کو لگ رہا ہوگا کہ ٹاپ لیڈر شپ کو ہٹاکر عوام کا ساتھ مل جائے گا لیکن اب ایسا ہونا مشکل ہے ۔ تمام خبروں میں یہی باتیں آرہی ہیں کہ ایران پر حملہ کر کے امریکہ پھنس گیا ہے ، اس نے اسرائیل پر کچھ زیادہ بھروسہ تو نہیںکرلیا ۔ اتنا معصوم بھی امریکہ کو نہیں سمجھنا چاہیئے کیونکہ دونوں ملک ہر وقت ہر فیصلہ میں ساتھ نظر آتے ہیں ۔ اسرائیل کی فوجی طاقت کے بارے میں بڑھا چڑھا کر دعوے کئے جاتے ہیں اگر ایسی کوئی قوت یا طاقت اسرائیل کے پاس ہوتی تو چوتھے اور پانچویں دن اسرائیل اور امریکہ کے خیمہ میں بھگدڑ نہیں مچ جاتی۔ اسرائیل کے پاس ایسا کچھ نہیں جس سے وہ ایک منٹ میں پورے ایران کوٹھپ کردے ، لبنان میں پیجر دھماکہ کرنا یا 2024 میں لبنان میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کو شہید کرکے یہی دعویٰ کیا گیا کہ اب ایران کو گھیرنا آسان ہوجائے گا ، ایران کی طاقت کم ہوگئی ہے ۔ ایران کی لیڈر شپ کو ختم کرنے کے بعد ایک سال سے یہی بات کہی جارہی ہے لیکن خامنہ ای کی شہادت کے بعد بھی اس پورے علاقہ میں ایران کی دہشت چوتھے اور پانچویں دن بھی نظر آرہی ہے ۔ تل ابیب کے آسمان میں ایران کی میزائلس قہر ڈھا رہی ہیں ، لبنان کی طرف سے بھی اسرائیل پر حملہ کی خبر ہے ۔ اسرائیل حملہ روک بھی دیتا ہے تب بھی نقصان ہوجاتا ۔ ایران کی میزائلوں نے تل ابیب کے باہر کے شہر پیتاتکوا کو بھی نقصان پہنچایا ہے ۔ ایران نے متحدہ عرب امارات کے فجیرہ بندرگاہ پر ڈرون حملہ کیا ، آگ بجھائی گئی لیکن ایران نے اپنی پہنچ بتادی ۔ مشرق وسطیٰ کے ایک ایک ٹھکانہ کیلئے خطرات پیدا ہوگئے ہیں ۔ ابنائے ہرمز پر بھی ایران نے کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاکہ دنیا کو تیل کی سربراہی روکی جاسکے ۔ سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبررساں ایجنسی اے این آئی نے کہا ہے کہ ہندوستان کے پاس 25 دنوں کا ہی تیل کا اسٹاک ہے اور ہندوستان تیزی سے اپنے دوسرے ذرائعوں کی طرف دیکھ رہا ہے ۔ امریکہ نے کیوں حملہ کیا اس کا جواب امریکہ کو لگتا ہے معلوم نہیں ۔ امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ روبیو نے جواب دیا جسے سن کر کوئی بھی سرپٹ لے کہ کن لوگوں کے بھروسہ دنیا چل رہی ہے ۔ روبیو نے کہا کہ امریکہ جانتا تھا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرے گا ، اس لئے اندیشہ تھا کہ ایران بدلہ میں امریکہ پر حملہ کرے گا اور لوگوں کے زخمی ہونے یا متاثر ہونے کا خطرہ بڑھے گا ۔ اس لئے ایران سے پہلے حملہ کردیا گیا ، تو ایران امریکہ پر حملہ کرتا اس لئے امریکہ نے ایران پر حملہ کردیا ، بتایئے یہ بھی کوئی دلیل ہے ، کیا امریکہ نے کوئی ایسی گیارنٹی دی تھی کہ ایران پر وہ حملہ نہیں کرے گا ؟ ۔