شہادت نے نہضتِ حسینی کو حیاتِ جاوداں عطا کردی ، اور ملتِ ایران کی عظیم خونی تحریکِ کربلا اسی راہ حسینی کا تسلسل ہے۔
واقعہ عاشورہ ایک مسلمان انسان کی اسلامی زندگی کا مکمل منظرنامہ ہے۔
امام حسینؑ کے خونِ مبارک کا اثر ہماری سرزمین میں اسلامی انقلاب کے تناور پودے کی صورت میں بار آور ہوا۔
روز عاشورہ کا یہ عظیم واقعۂ اسلامی انقلاب کی بنیاد ہے۔
واقعہ عاشورہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دین وشریعت کی حفاظت کے لیے کسی طرح کی قربانی کے دریغ نہیں کرنا چاہیے اور قرآن مجید کی راہ میں ہر چیز کو فدا کر دینا چاہیے۔
مجالسِ عزاداری کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ہاتھ، ہمارا دل اور ہمارے اعمال امام حسین بن علیؑ اور ان کے بلند مقاصد سے زیادہ قریب اور آشنا ہو سکیں۔
عاشورہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ثقافت اور طرزِ حیات ہے۔
کربلا ہمارے لیے ایک مکمل اور دائمی
نمونۂ عمل ہے۔
کربلا اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ دشمن کی ظاہری ہیبت کے سامنے انسان کو کبھی تردد اور کمزوری کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
الحمد للہ آج ملتِ ایران نے امام حسینؑ کے راہ پر گامزن ہونے کا کامیاب تجربہ کیا ہے
جو پوری اسلامی بلکہ دنیا کی اقوام کے درمیان سربلندی اور عظمت کے ساتھ کی علامت کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔
انقلابِ اسلامی کی کامیابی سے پہلے آپ لوگوں نے جو راستہ اختیار کیا، وہ امام حسینؑ کا راستہ تھا؛ یعنی دشمن سے نہ ڈرنا اور قابض طاقتوں کے خلاف جدوجہد کا راستہ انتخاب کرنا۔
محرم اور صفر کے ایام میں ہماری عزت دار قوم کو چاہیے کہ اپنے اندر جوش ،ولولہ، ، دشمن سے بےخوفہونا ، خدا پر توکل اور راہِ خدا میں مخلصانہ قربانی اور ایثار کے جذبہ اور ایکلفظ میں روح عاشورائی کو مضبوط کرے اور اس سلسلہ میں امام حسینؑ سے مدد طلب کرے۔
مجالسِ عزاداری اس لیے منعقد ہوتی ہیں کہ ہمارے دل امام حسین بن علی علیہما السلام اور ان کے مقدس اغراض و مقاصد سے قریب اور مانوس ہوجائیں۔
دنیا کی ہر قوم کو امام حسین علیہ السلام سے سبق حاصل کرنا چاہیے؛ کہ دشمن سے خوف زدہ نہ ہو، اپنی قوت پر اعتماد رکھے، اپنے پروردگار پر توکل کرے، یہ یقین رکھے کہ اگر دشمن بظاہر بڑی شان و شوکت کا حامل ہے تو اس کی یہ شان و شوکت عارضی اور ناپائیدار ہے، اور اگر بظاہر اس کا محاذ بڑا اور طاقتور دکھائی دےرہا ہے تو یاد رکھے کہ اس کی حقیقی طاقت بہت کمزور ہے۔
امام حسینؑ نے اپنے ارشادات کے ذریعے واضح فرمایا کہ ایسے حالات میں عالمِ اسلام کے لیے طاغوتی طاقت کے اصل سرچشمے کے خلاف قیام کرنا اور انسانوں کو اس کے شیطانی اور استکباری قبضے سے نجات دلانے کی کوشش کرنا سب سے بڑا اور اہم فریضہ ہے۔
امام حسینؑ کی عظیم قربانی کا واقعہ صرف ایک درس ہی نہیں بلکہ ایک بہت بڑی عبرت بھی ہے۔
واقعہ کربلا کا ایک پیغام یہ ہےکہ جس طرح امام حسین علیہ السلام نے عمل کیا، اور جس راہ پر آپ نے قدم بڑھائے ہمیں بھی اسی راہ پر گامزن ہونے کی کوشش کرنا چاہیے۔
امام حسینؑ نے پوری انسانیت کو جو عظیم پیغام دیا ہے اس کی عظمت ہمیشہ باقی رہے گی۔