سہارن پور میں مسجد کا انہدام آئین اور قانون کی بالادستی کا تمسخر ہے: مولانا کلب جواد نقوی
2
M.U.H
06/09/2026
سہارنپور کی مسجد کے انہدام پر امولانا کلب جواد نقوی کا سخت ردِعمل
لکھنؤ:۶ ستمبر:سہارنپور کلیکٹریٹ کمپلیکس میں واقع مسجد کے انہدام کے واقعہ پر مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا کلب جواد نقوی نے سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسجد پر جس طرح بلڈوزر چلایا گیا اس سے قانون کی حکمرانی، آئینی اقدار اور انتظامیہ کی جواب دہی پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں ۔
مولانا کلب جواد نقوی نے کہا کہ اگر کسی تعمیر کو قانون کے تحت ہٹانا ضروری تھا تو حکومت کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا اختیار ہے، لیکن قانون نافذ کرنے والا کوئی بھی افسر خود قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔ عدالت نے جو وقت دیا تھا افسروں نے اسکا بھی خیال نہیں کیا،اس سے یہ کارروائی مشتبہ ہے جس کی جانچ ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ اس پورے واقعہ میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مسجد کو منہدم کرنے کا تحریری حکم کس افسر نے جاری کیا، کس نے اس کی منظوری دی، کس قانونی اختیار کے تحت جے سی بی اور دیگر مشینری استعمال کی گئی اور پوری کارروائی کی کمان کس کے ہاتھ میں تھی؟ مولانا نے کہا کہ یہ کہ دینا کافی نہیں کہ کارروائی عدلیہ کے حکم کی تعمیل میں کی گئی بلکہ اصل حکم کو عوام کے سامنے رکھا جائے اور کارروائی کے طریقہ کار کی جانچ ہونی چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ سہارنپور کے متعلقہ انتظامی اور پولیس افسران کے کردار کی آزاد، غیر جانب دار اور اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے۔ تحقیقات سے پہلے کسی افسر کو مجرم قرار دینا مناسب نہیں، لیکن کسی افسر کو صرف اس کے عہدے کی بنیاد پر تحقیقات سے باہر رکھنا بھی قانون کی حکمرانی کے خلاف ہوگا۔
مولانا نے کہا کہ ہندوستان کسی استعماری ذہنیت سے نہیں بلکہ آئین اور قانون سے چلتا ہے۔ کسی سرکاری عہدے پر بیٹھا ہوا افسر قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا:«’’ہم کسی غیر قانونی تعمیر کی حمایت نہیں کر رہے ہیں۔ ہمارا سوال بالکل واضح ہے—اگر کوئی تعمیر غیر قانونی تھی تو قانون کے مطابق کارروائی کیجیے، لیکن اگر قانون نافذ کرنے کے عمل میں ہی قانون کو نظر انداز کیا گیا ہے تو پھر ذمہ دار افسران سے بھی جواب طلب ہوناچاہیے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں آئین کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، خواہ کسی بھی تعمیر کو گرانا یا ہٹانا ہو ۔ ہندوستان میں ہر سرکاری دفتر،شاہراہوں ،اور دیگر سرکاری جگہوں پر مندر موجود ہیں،کیا وہ سب قانونی ہیں ۔ آخر ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ مولانا ڈاکٹر کلب جواد نقوی نے کہا کہ وہ اس معاملے میں سپریم کورٹ، الہ آباد ہائی کورٹ، وزیرِاعظم دفتر، صدرِ جمہوریہ، وزیرِاعلیٰ اترپردیش اور گورنر اترپردیش کے سامنے آزادانہ تحقیقات اور ذمہ دار افسران کی جواب دہی کا مطالبہ رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی افسر کی جانب سے آئینی اور قانونی حدود سے تجاوز، اختیارات کا ناجائز استعمال یا کسی جرم کا ثبوت ملتا ہے تو اس کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے اور عدالت میں جرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سخت سزا ملنی چاہیے۔
آخر میں مولانا کلب جواد نقوی نے کہا:«’’یہ لڑائی صرف ایک عمارت کی چار دیواری کی نہیں ہے؛ یہ سوال ہے کہ ہندوستان میں قانون بڑا ہے یا قانون نافذ کرنے والے کی من مانی۔ ہم آئین کے دائرے میں انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں اور صاف کہتے ہیں کہ اگر کوئی افسر مجرم ثابت ہوتا ہے تو اس کی کرسی نہیں، اس کا عمل قانون کے کٹہرے میں کھڑا ہونا چاہیے۔‘‘»
مولانا کلب جواد نقوی کے اہم مطالبات
مولانا نے مطالبہ کیا کہ:
- مسجد کے انہدام کا اصل تحریری حکم عوام کے سامنے لایا جائے۔
- حکم نامے کا نمبر، تاریخ اور دستخط کرنے والے افسر کا نام واضح کیا جائے۔
- مکمل انتظامی فائل اور نوٹ شیٹ محفوظ کی جائے۔
- سی سی ٹی وی فوٹیج اور کارروائی کی ویڈیو گرافی محفوظ کی جائے۔
- جے سی بی، ڈمپر اور دیگر سرکاری مشینری کے استعمال کے حکم کی تحقیقات کی جائیں۔
- پولیس اور پی اے سی کی تعیناتی کس حکم پر ہوئی، اس کا ریکارڈ سامنے لایا جائے۔
- کارروائی میں شامل ہر افسر اور ملازم کے کردار کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔
- اگر کسی افسر کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال یا قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو تو اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی کی جائے۔
- اگر تحقیقات میں جرم ثابت ہو تو عدالت کے ذریعے قانون کے مطابق سزا دلائی جائے۔
- اگر کسی افسر کی انتظامی بدعنوانی یا سنگین بدعنوانی ثابت ہو تو اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی اور قانون کے مطابق برخاستگی کی کارروائی کی جائے۔