یومِ قدس: ظلم کے ایوانوں کے خلاف مزاحمت کی عالمی صدا
12
M.U.H
12/03/2026
0 0
تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی ظلم نے اپنے پنجے پھیلائے اور باطل نے حق کو دبانے کی کوشش کی، تو مردانِ حق نے قیام کیا، آواز اٹھائی اور ظالم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے۔ یہی وہ روح ہے جو ہمیں نفسِ رسولؐ، فاتحِ خیبر امیر المومنین امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کی وصیت میں نظر آتی ہے۔
آپؑ نے اپنے فرزندوں امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام سے فرمایا: "قولا بالحق و اعملا للاجر و کونا للظالم خصماً وللمظلوم عوناً"
یعنی حق بولو، خدا کے اجر کی خاطر عمل کرو، ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار بنو۔
یہ الفاظ صرف نصیحت نہیں بلکہ ایک انقلابی منشور ہیں؛ ایک ایسا منشور جو ہر دور کے مظلوموں کو حوصلہ دیتا ہے اور ہر ظالم کے ایوانِ اقتدار کو لرزا دیتا ہے۔
قولا بالحق — حق کی صدا جو کبھی خاموش نہ ہو
اسلام کی پہلی صدا ہی حق کی صدا ہے۔ حق کہنا، حق پر ڈٹ جانا اور حق کی گواہی دینا مؤمن کی پہچان ہے۔
جب ظلم کے سائے گہرے ہوئے تو تاریخ نے دیکھا کہ مردانِ خدا نے زبانِ حق کو خاموش نہیں ہونے دیا۔
وفادار اصحاب جیسے جناب سلمان فارسی، جناب ابوذر غفاری، جناب مقداد بن اسود، جناب عمار بن یاسر، جناب میثم تمار اور جناب حجر بن عدی رضوان اللہ تعالی علیہم نے تخت و تاج کے سامنے بھی حق کا پرچم بلند رکھا۔
ان کی زندگیاں اعلان کرتی ہیں کہ حق کی آواز دبائی جا سکتی ہے مگر ختم نہیں کی جا سکتی۔
واعملا للاجر — عمل جو فقط خدا کے لئے ہو
قرآن نے انسان کی زندگی کا مقصد واضح کیا ہے کہ اللہ کی رضا اور اس کے دین کی سربلندی۔
اسی لئے انبیاء اور اولیاء علیہم السلام نے دنیا کے سامنے ثابت کیا کہ جو کام خدا کے لئے ہو وہی تاریخ بدل دیتا ہے۔
اسی راہ کے مجاہد اعظم تھے رسول خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے بعد علم و عدالت کا معیار و مینار امام علی بن ابی طالب علیہ السلام۔
بضعۃ المصطفیٰ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے خطبۂ فدک میں فرمایا کہ امیر المومنین امام علی علیہ السلام "مجتہداً فی امر اللہ" ہیں۔ یعنی وہ شخصیت جو ہر لمحہ خدا کے دین کے لئے کوشاں رہی۔
وکونا للظالم خصماً — ظلم کے ایوانوں کے خلاف قیام
اسلام صرف عبادت کا حکم نہیں دیتا بلکہ مقاومت و مزاحمت کا بھی حکم دیتا ہے۔
ظلم جہاں بھی ہو۔ چاہے تخت پر ہو یا تلوار کے سائے میں۔ اسلام اس کے خلاف کھڑے ہونے کا حکم دیتا ہے۔
آج بھی دنیا میں ظلم کے بڑے بڑے قلعے قائم ہیں۔ سامراجی طاقتیں کمزور قوموں کو روند رہی ہیں، سرزمینیں چھینی جا رہی ہیں اور انسانیت کی آواز کو دبانے کی کوشش ہو رہی ہے۔
لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ ظلم کی ہر سلطنت ایک دن مٹ جاتی ہے۔ ظالم تاریخ کے قبرستان میں گمنام ہو جاتا ہے اور شہید آفاق پر چھا جاتا ہے۔
وللمظلوم عوناً — مظلوم کا ہاتھ تھامو
اسلام کے نزدیک مظلوم کی حمایت ایک مقدس فریضہ ہے۔ مظلوم چاہے کسی بھی قوم، مذہب یا نسل سے تعلق رکھتا ہو، اس کی مدد کرنا انسانیت کا تقاضہ ہے۔
یہی وہ پیغام ہے جسے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملی طور پر ثابت کیا جب انہوں نے مظلوموں کی حمایت کے لئے مکہ میں حلف الفضول میں شرکت کی۔
دور حاضر میں اسی فکر کو زندہ کرنے کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی، اسلامی انقلاب کے رہبر کبیر حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید روح اللہ موسوی امام خمینی قدس سرہ نے ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو یومِ قدس قرار دیا۔
یہ دن صرف ایک تاریخی اعلان نہیں بلکہ ظلم کے خلاف ایک عالمی بیداری ہے۔
بیت المقدس — انبیاء کی سرزمین اور مسلمانوں کا پہلا قبلہ — آج غاصب طاقتوں کے قبضے میں ہے۔ اسی قبضے نے لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا اور ان کی سرزمین کو خون سے رنگین کر دیا۔
اس قبضے کے پیچھے کھڑی طاقتوں میں سرِفہرست ہے غاصب ریاست اسرائیل جس نے ظلم اور جارحیت کو اپنی سیاست بنا رکھا ہے۔
آج غزہ کے ملبے، فلسطین کے زخم، لبنان کی مزاحمت اور شام و عراق کے حالات دنیا کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔
یہ سب ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ظلم ابھی زندہ ہے۔ مگر مزاحمت بھی زندہ ہے۔
یومِ قدس درس دیتا ہے کہ حق کی آواز بلند کرو، ظالم کے سامنے جھکنے سے انکار کرو، مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔
یہ دن دراصل اسی وصیت کی عملی تصویر ہے جو امیرالمؤمنین امام علی بن ابی طالب علیہ السلام نے دی تھی کہ "ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار بنو۔"
یومِ قدس محض ایک دن نہیں بلکہ ایک عہد ہے۔ یہ عہد ہے کہ دنیا کے آزاد انسان ظلم کے خلاف متحد ہوں گے۔ یہ عہد ہے کہ مظلوم کی فریاد کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
اور یہ یقین بھی کہ ظلم کی رات جتنی بھی طویل ہو، صبحِ آزادی ضرور طلوع ہوتی ہے۔
اسی یقین کے ساتھ پوری دنیا کے حریت پسند انسان اعلان کرتے ہیں کہ یومِ قدس ظالموں کے خلاف نفرت اور مظلوموں کے ساتھ وفاداری کا دن ہے۔
سلام ہو رہبرِ کبیر انقلاب آیۃ اللہ العظمیٰ سید روح اللہ خمینی پر، جنہوں نے امتِ مسلمہ کے دلوں کو انقلاب اور مزاحمت کے نور سے روشن کیا اور یومِ قدس کے اعلان سے فلسطین کی صدا کو پوری دنیا کی صدا بنا دیا۔
سلام ہو اسلامی انقلاب کے شہید قائد آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای پر، جنہوں نے حکمت، شجاعت اور استقامت کے ساتھ استکبارِ عالم کے مقابلے میں حق کا پرچم بلند رکھا۔
سلام ہو قائدِ مقاومت شہید سعید علامہ سید حسن نصراللہ پر، جنہوں نے میدانِ مزاحمت میں جرأت، ایمان اور قربانی کی ایسی داستان لکھی جس نے ظالم طاقتوں کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔
سلام ہو ان عظیم رہنماؤں پر جنہوں نے مظلوموں کے دلوں میں امید اور ظالموں کے ایوانوں میں خوف پیدا کیا۔
سلام ہو مقاومت پر، سلام ہو آزادی پر، اور سلام ہو یومِ قدس پر!