اے آئی سمٹ کے دوران یوتھ کانگریس کارکنان کا احتجاج، ٹی شرٹ لہرا کر لگائے ’پی ایم اِز کمپرومائزڈ‘ کے نعرے
30
M.U.H
20/02/2026
نئی دہلی کے بھارت منڈپ میں منعقد انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران جمعہ کو یوتھ کانگریس کے کارکنان نے زبردست احتجاج کرتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کی۔ مظاہرین نے پروگرام کے مقام پر پہنچ کر اپنی ٹی شرٹس لہرا کر ’پی ایم اِز کمپرومائزڈ‘ کے نعرے لگائے اور کہا کہ ملک کا نوجوان اب خاموش رہنے والا نہیں ہے۔
یوتھ کانگریس کے مطابق یہ احتجاج کسی تقریب کی مخالفت نہیں بلکہ ان پالیسیوں کے خلاف تھا جنہیں وہ ملک کے مفاد کے منافی قرار دے رہی ہے۔ کارکنان کا کہنا تھا کہ جب قومی مفاد پر کارپوریٹ مفادات کو ترجیح دی جائے اور خارجہ پالیسی میں ایسی نرمی دکھائی دے جو کسانوں اور نوجوانوں کے لیے نقصان دہ ہو، تو احتجاج جمہوری حق ہی نہیں بلکہ ذمہ داری بن جاتا ہے۔
احتجاج کے دوران کچھ دیر کے لیے مقام پر ہلچل کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ سیکورٹی اہلکاروں نے مداخلت کرتے ہوئے کئی کارکنان کو حراست میں لے لیا اور انہیں وہاں سے ہٹا دیا۔ حکام کے مطابق قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ تاہم یوتھ کانگریس نے اسے پرامن اور علامتی احتجاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ آواز دبانے کی کوششیں نوجوانوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔
انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب نے کہا کہ ’پی ایم اِز کمپرومائزڈ‘ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ کروڑوں بے روزگار نوجوانوں کے غصے کی ترجمانی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کے کسانوں کے مفادات پر سمجھوتہ کیا جائے، بیرونی تجارتی معاہدوں میں ہندوستان کو کمزور کیا جائے اور نوجوانوں کو روزگار دینے کے بجائے انہیں مایوسی کی طرف دھکیلا جائے تو ایسے میں خاموشی ممکن نہیں رہتی۔
یوتھ کانگریس نے اپنی آفیشل ایکس پوسٹ میں بھی اسی مؤقف کو دہرایا۔ بیان میں کہا گیا کہ اے آئی سمٹ کے چمکدار اسٹیج کے پیچھے اصل مسائل کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ تنظیم کے مطابق اگر میڈیا اور سسٹم سوال اٹھانے میں ناکام رہیں تو نوجوانوں کو ہر دستیاب پلیٹ فارم پر اپنی بات رکھنے کا حق حاصل ہے۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ احتجاج سمٹ کے خلاف نہیں بلکہ ملک کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہے۔
تنظیم نے واضح کیا کہ وہ جمہوری اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے ملک کے نوجوانوں اور کسانوں کے حقوق کی لڑائی جاری رکھے گی۔ یوتھ کانگریس کا کہنا ہے کہ اگر وزیر اعظم کمپرومائزڈ ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ عوام بھی خاموش ہو جائیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ملک کے مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا اور ہر سطح پر سچ بولنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔