بابر کے نام پرمسجد پر پابندی: سپریم کورٹ نے درخواست خارج کی
35
M.U.H
20/02/2026
نئی دہلی:سپریم کورٹ نے اس عوامی مفاد کی عرضی کو مسترد کر دیا ہے جس میں ‘بابر’ یا ‘بابری مسجد’ کے نام پر مسجد کی تعمیر پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ پورے ہندوستان میں کسی بھی مسجد کی تعمیر یا نام ‘بابر’ یا ‘بابری مسجد’ کے نام پر نہیں ہونا چاہیے۔ عرضی میں یہ دلیل دی گئی کہ مغل حکمران بابر ایک ‘ہندو مخالف حملہ آور’ تھا، اس لیے اس کے نام پر کسی بھی مذہبی ڈھانچے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ عرضی گزار دیوی کی نندن پانڈے کے دلائل کا کچھ حصہ سننے کے بعد ہی بنچ نے اس عرضی کو خارج کر دیا۔
عرضی گزار کے دلائل
سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے پیش وکیل نے کہا کہ مغربی بنگال کے مرشد آباد میں ‘بابری مسجد’ کے نام سے ایک مسجد تعمیر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ بابر ایک ظالم اور ہندو مخالف حملہ آور تھا، اس لیے اس کے نام پر کسی بھی مسجد کی تعمیر یا نام رکھنا نہیں ہونا چاہیے۔
عرضی میں یہ بھی کہا گیا کہ بابر نے ہندوؤں کو غلام کہا تھا، اور ایسی سرگرمیوں میں شامل افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ عرضی میں مرکز، ریاستوں اور دیگر حکومتوں سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ اس معاملے پر غور کریں اور پورے ہندوستان میں بابر، بابری مسجد یا ان سے ملتے جلتے/مشتق ناموں پر کسی بھی مسجد یا مذہبی ڈھانچے کی تعمیر، قیام یا نام گذاری پر پابندی عائد کریں۔
تاہم عدالت نے ان دلائل پر کسی بھی قسم کی راحت دینے سے انکار کرتے ہوئے عرضی کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے اس موضوع پر ملک گیر سطح پر کسی وسیع پابندی سے بھی صاف انکار کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ ہمایوں کبیر نے مغربی بنگال کے مرشد آباد میں بابری مسجد کی تعمیر کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد یہ معاملہ تنازع کا باعث بن گیا تھا۔