یمنی فوج نے سعودی عرب کا F-15 جنگی طیارہ مار گرانے کی تصدیق کر دی
18
M.U.H
16/09/2026
سعودی جارحیت کیخلاف مزاحمت کے دوران یمنی مسلح افواج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے مأرب کی فضا میں سعودی عرب کے ایک F-15 جنگی طیارے کو مقامی طور پر تیار کردہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنا کر مار گرایا۔ خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے آج بدھ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں اعلان کیا کہ یمنی مسلح افواج نے صوبہ مأرب کی فضا میں سعودی دشمن سے وابستہ فورسز کی حمایت میں کارروائی کے جواب میں سعودی عرب کے ایک F-15 جنگی طیارے کو مقامی ساختہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے مار گرایا۔
بیان کے مطابق، یہ جنگی طیارہ ’’سعودی دشمن‘‘ سے وابستہ فورسز کی نقل و حرکت اور اجتماع کی حمایت میں کارروائی کر رہا تھا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یمنی فورسز نے مأرب کی فضا میں F-15 اور ’’ٹائفون‘‘ جنگی طیاروں کا بھی مقابلہ کیا، جس کے بعد ان طیاروں کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ بیان کے مطابق، یہ جنگی طیارے مار گرائے گئے طیارے کا ملبہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یمنی مسلح افواج نے مزید اعلان کیا کہ سعودی جنگی طیاروں نے تعز، لحج، الجوف، حجہ، مأرب، صعدہ اور البیضاء کے صوبوں پر 450 سے زائد فضائی حملے کیے ہیں، جن کے نتیجے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔
مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے سے متعلق سعودی عرب کے دعووں کے ردِعمل میں یمنی مسلح افواج نے کہا کہ آلِ سعود حکومت کی جانب سے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے پھیلائے جانے والے بہتان اور جھوٹ کسی کے لیے بھی قابلِ قبول نہیں ہو سکتے۔ یمن کی جانب سے مقدسات کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے اور ہماری کارروائیاں صرف ان کی تیل تنصیبات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بناتی ہیں۔ یمنی مسلح افواج نے اپنے بیان کے اختتام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے پاس موجود تمام وسائل کے ذریعے اپنے ملک کی فضائی حدود اور خودمختاری کا ہر قسم کی جارحیت یا خلاف ورزی کے مقابلے میں دفاع کریں گے اور ان شاء اللہ یمن کی فضائی حدود کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔