صنعا: باب المندب میں جہاز رانی، سعودی دعوے کے برخلاف، محفوظ ہے
10
M.U.H
15/09/2026
تہران:یمن حکومت کی وزارت خارجہ نے صنعا میں ایک بیان میں زور دیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ یمن پر قبضے کے لیے فوجی دستے بھیجتا اور جنگی طیاروں بمباری کرکے یمنی عوام کا قتل عام اور ان کے وسائل کو تباہ کر رہا ہے۔
اس بیان میں کہا گیا ہے: سعودی عرب نے گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران یمن کے خلاف ایف 15 اور ٹائفون جنگی طیاروں سے 54 فضائی حملے کیے ہیں، ان طیاروں نے خمیس مشیط اور الطائف کے اڈوں سے پرواز کی تھی اور ان حملوں میں صوبہ تعز، لحج، الجوف، مأرب اور حجہ کو نشانہ بنایا۔
اس بیان میں مزید کہا گیا ہے: باب المندب میں کوئی مسئلہ نہیں ہے اور وہاں جہاز رانی محفوظ ہے اور سعودی حکومت کی جانب سے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوششیں بے بنیاد ہیں۔
اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صنعا کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سعودی عرب سے وابستہ عسکریت پسندوں کو نشانہ بنائے اور اگر دنیا خطے میں امن و استحکام کی خواہاں ہے تو اسے سعودی عرب سے کہنا چاہیے کہ وہ یمن کے امور میں مداخلت ختم کرے۔
در ایں اثنا یمن کی حکومت کی وزارت ٹرانسپورٹ کے ایک باخبر ذریعے نے گزشتہ رات آبنائے باب المندب میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت کے جاری رہنے کی اور 145 بحری جہازوں کے گزرنے کی اطلاع دی ہے۔