یمن نے مکہ مکرمہ پر مبینہ حملے کے حوالے سے من گھڑت سعودی الزامات کی مذمت کی
17
M.U.H
16/09/2026
"سعودی عرب" کی جانب سے جھوٹے پروپیگنڈے، فریب کاری اور حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کو "یمن" کے عسکری ذرائع نے آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے صنعاء کی افواج کی جانب سے "مکہ مکرمہ" کو لاحق خطرے سے متعلق بے بنیاد سعودی دعوے کی سخت مذمت كی۔ اس سورس نے یمنی خبر رساں ایجنسی سباء سے گفتگو میں کہا کہ ہم یمن کی جانب سے مکہ مکرمہ یا دیگر مقدس مقامات کو لاحق کسی بھی خطرے کے امکان کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی جھوٹی خبریں پھیلانے کا مقصد حقائق کو مسخ کرنا اور عالم اسلام کی ہمدردی حاصل کرنا ہے۔ سعودی عرب! ماضی میں بھی ایسے حربے استعمال کرتا رہا۔ واضح رہے کہ سعودی ذرائع، بالخصوص روزنامہ عکاظ نے دعویٰ کیا کہ آج دوپہر، یمن کی جانب سے میزائل حملوں کے باعث مکہ مکرمہ میں خطرے کے سائرن فعال ہوگئے۔
عکاظ نے زرد صحافت کرتے ہوئے اس مبینہ واقعے کے حوالے سے عالمِ اسلام کے جذبات کو مشتعل کرنے کی پوری کوشش کی۔ مذکورہ اخبار نے مزید کہا کہ اس معاملے میں مسلمانوں کے صبر کی ایک حد ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عکاظ نے اس واقعے کا کوئی ثبوت پیش کئے بغیر یہ بھی کہا کہ اسلامی ممالک نے ان حملوں کی مذمت کی۔ یہ افواہیں اس وقت اڑائی جا رہی ہیں جب یمنی فوج نے اب تک سعودی عرب کے مقدس شہروں پر کوئی حملہ نہیں کیا، بلکہ اس کے حملوں کا ہدف سعودی عرب کی اہم تیل و اقتصادی تنصیبات رہی ہیں۔ یمن کا کہنا ہے کہ وہ یہ حملے سعودی عرب کی جانب سے کئی سال سے جاری محاصرے اور مسلط کردہ ظالمانہ جنگ کے رد عمل میں کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں یمن، مغربی ساحل کو آزاد کرانے کے بعد "باب المندب" پر بھی اپنا کنٹرول قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔