دنا جہاز پر حملہ جنگی جرم تھا، ہم شہدا کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے: ایرانی وزیر خارجہ
5
M.U.H
30/06/2026
تہران: ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے دنا بحری جہاز پر امریکی حملے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
دنا بحری جہاز پر امریکی حملے میں شہید ہونے والوں کی باقی ماندہ اشیا کی نمائش کا معائنہ کرنے کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تربیتی مشن سے واپس آنے والے غیر مسلح بحری جہاز کو نشانہ بنانا فتح کی علامت نہیں بلکہ دشمن کی بے بسی کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنازعے باہر والے علاقے میں غیر مسلح بحری جہاز کو بغیر کسی خطرے یا وارننگ کے نشانہ بنانا یقیناً جنگی جرم ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ وزارت خارجہ کا قانونی شعبہ، بحریہ کے تعاون سے، اس جرم شواہد جمع کرے گا اور ہم تمام ضروری قانونی پیروی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تمام ضروری انتظامات کر لیے گئے ہیں، ابتدائی مطالعات کا آغاز ہو چکا ہے۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ اور ہم ان شہیدوں کے خون کا انتقام ضرور لیں گے۔
ارنا کے مطابق 4 مارچ 2026 کو ہندوستان میں بین الاقوامی بحری مشقوں "ملن 2026" سے واپسی پر ایران کے دنا نامی جہاز کو امریکی فوجی آبدوز نے نشانہ بناکر تباہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں 104 سیلر شہید ہو گئے۔
سرکاری معلومات کے مطابق، دنا جہاز واقعے کے وقت آپریشنل یا جنگی مشن پر نہیں تھا اور بحری تربیت اور ملٹری ڈپلومیسی گروپ کے طور پر ہندوستان گیا تھا۔