مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ مسئلہ فلسطین ہے:رجب طیب اردوان
5
M.U.H
30/06/2026
ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ مسئلہ فلسطین ہے، جب تک اسرائیل کی جانب سے زمینوں پر قبضے کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا، خطے میں امن نہیں ہوسکتا۔ استنبول میں نیٹو اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کو دو ریاستی حل سے طے کیا جاسکتا ہے، 1967ء کی سرحدوں کے اندر ایک آزاد، خود مختار اور مکمل فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے۔ اردوان نے کہا کہ حالیہ عرصے میں خاص طور پر غزہ اور لبنان میں ہونے والے واقعات نے انسانیت کے ضمیر پر گہرے زخم چھوڑے ہیں اور بین الاقوامی اداروں اور نظریات کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے، ترکیے لبنان کو نشانہ بنانے والے حملوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جن کا مقصد خطے میں قائم ہونے والے امن کو نقصان پہنچانا ہے۔
صدر اردوان نے کہا کہ نیٹو کی 360 ڈگری سکیورٹی پالیسی کا مطلب ہے کہ اتحاد کو یوکرین، خلیج اور فلسطین کے حالات کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ ترکیے، پاکستان، قطر اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو مستقل حل میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں کردار ادا کرتا رہے گا۔ ترک صدر نے کہا کہ موجودہ حالات میں نیٹو کی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنا اور اتحادی ممالک کے درمیان یکجہتی کو مضبوط کرنا پہلے سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے، ترکیے نے نئے دور کی حقیقتوں کو بیشتر ممالک سے بہتر انداز میں سمجھا ہے۔ ترک صدر غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی جنگ کو ہدف تنقید بناتے رہے ہیں۔ 2024ء میں بھی اس وقت ترکیے اور اسرائیل کے درمیان بیان بازی کی جنگ شدت اختیار کر گئی تھی، جب رجب طیب اردوان نے اشارہ دیا تھا کہ ان کا ملک غزہ میں خوں ریزی رکوانے کے لیے فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔