بقائی: شہید رہبر انقلاب کا جنازہ اور الوداعی پروگرام ایران، علاقے اور دنیا کے لئے تاریخی ہوگا
5
M.U.H
30/06/2026
ترجمان دفتر خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ شہید رہبر انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای قدس سرہ کی الوداعی رسومات اور تشییع جنازہ ایرن اور علاقے کے عوام، سبھی مسلمانوں اور دنیا کے حریت پسندوں کے لئے اہم ترین تاریخ روداد ہوگی۔
تہران :اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج منگل 30 جون کوصحافیوں کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ اپنی گفتگو کا آغاز میں چند مناسبتوں کی یاد دہانی سے کرنا چاہتا ہوں۔
انھوں نے کہا کہ معلوم ہونا چاہئے کہ ہم کون ہیں؟ ہمیں کن حوادث کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ملک کی آزادی، سربلندی اور پیشرفت جاری رکھنے کے لئے، ان حوادث سے ہم کیا سبق حاصل کرسکتے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ آئندہ چند دنوں میں، ایران، علاقے اور ایک طرح سے پوری دنیا میں اہم ترین رودادیں رونما ہونے جارہی ہیں۔ یہ رودادیں، شہید رہبر کے جنازے اور آپ کی الوداعی رسومات سے متعلق ہوں گی جو ملت ایران کے لئے بھی، علاقے کے عوام کے لئے بھی، مسلمین عالم کے لئے بھی اور دنیا کے حریت پسندوں کے لئے بھی غیر معمولی اور تاریخی ہوں گی۔
انھوں نے اپنی اس پریس کانفرنس میں لبنان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ لبنان میں ہمارا موقف بالکل واضح ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکا نے سبھی محاذوں پر منجملہ لبنان میں جنگ کے خاتمے کا صراحت کے ساتھ وعدہ کیا تھا اور مفاہمتی یاد داشت کی پہلی شق میں اس پر زور بھی دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے لئے اصلی معیار یہ ہے کہ امریکا خود بھی اپنے وعدوں کی پابندی کرے اور صیہونی حکومت کو بھی مجبور کرے کہ واشنگٹن نے جو وعدہ کیا ہے اس پر عمل کرے؛ کیونکہ اس مفاہمتی یاد داشت میں اسلامی جمہوریہ ایران کا فریق امریکا ہے اور اس کا فریضہ ہے کہ جہاں ضرورت پڑے وہ صیہونی حکومت کو اپنے وعدوں کی پابندی پر مجبور کرے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے دوحہ میں امریکی وفد سے گفتگو کے امکان کے بارے میں کہا کہ بنیادی طور پر آئںدہ چند دنوں کے دوران ہمارا کسی بھی سطح پر امریکیوں سے ملاقات کا کوئی پروگرام نہیں تھا۔ نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے پہلے ہی اس کا اعلان کردیا تھا اور میں نے بھی صراحت کے ساتھ کہدیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ کل دوحہ میں قطری حکام کے ساتھ مفاہمتی یاد داشت کی شقوں پر عمل درآمد اور خاص طور پر ایران کے منجمد اثاثے ریلیز کئے جانے کے بارے میں گفتگو ہوگی۔ بنابریں ہم ایک بار پھر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ آئندہ چند دنوں میں امریکیوں کے ساتھ کسی نشست کا کوئی پروگرام طے نہیں ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کی مختلف شقوں، منجملہ ایرانی اثاثوں کی آزادی سے متعلق شق پر عمل جاری ہے۔
انھوں نے کہا کہ شق 11 پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی ضروری ابتدائی اور تمہیدی تدابیر اختیار کی جاچکی ہیں اور امید ہے کہ اس عمل میں بھی اچھی پیشرفت ہوگی اور مطلوبہ نتیجہ حاصل ہوگا۔
ترجمان دفتر خارجہ اسماعیل بقائی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے اندر بعض جگہوں پر امریکی حملوں اور امن مذاکرات پر ان حملوں کے اثرات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکا کی جانب سے مفاہمتی یاد داشت کی خلاف ورزی کا مذاکراتی عمل پر یقینا اثر پڑے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم کوئی اقدام بھی بغیر جواب کے نہیں چھوڑیں گے جیسا کہ ہماری طاقتور مسلح افواج نے دکھا بھی دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ہر جارحانہ اقدام کا فوری، بلاتاخیر اور محکم جواب دیا جائے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ یہ اقدامات اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کی پہلی شق کے منافی ہیں بنابریں اگر یہ خلاف ورزیاں جاری رہتی ہیں تو فطری طور پر مذاکراتی عمل میں مشکلات آجائيں گی۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ میں آپ کی توجہ شق 13 اور اس کے مندرجات کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں جس میں وضاحت کی گئی ہے کہ حتمی سمجھوتے کے لئے گفتگو کا آغاز، شق 1 ،4، 5، 10 ، اور 11 پر عمل درآمد شروع ہوجانے اور جاری رہنے پر منحصر ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ بعض شقوں پر عمل درآمد کی صورتحال نسبتا بہتر ہے، منجملہ، سمندری محاصرے کے خاتمے اور ایران کے تیل نیز پیٹروکیمیکل پروڈکٹس کی فروخت کی آزادی کی صورتحال اچھی ہے اور اسی طرح اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی آبنائے ہرمز سے متعلق جو وعدہ کیا تھا اس پر پوری طرح عمل کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ اسماعیل بقائی نے اسی کے ساتھ کہا کہ " لیکن بعض معاملات میں سنجیدہ مشکلات کا سامنا ہے اور ان مشکلات و مسآئل کے برطرف ہونے کے لئے ضروری ہے کہ فریق مقابل اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کی سبھی شقوں پر عمل درآمد کے تعلق سے اپنے وعدوں پر عمل کرے۔