ہم نے کبھی بھی مزاحمت کے ہتھیار حوالے کرنے پر اتفاق نہیں کیا: حماس
6
M.U.H
29/01/2026
تحریک حماس کے ایک رہنما نے غزہ کو غیر مسلح کرنے سے متعلق صہیونی وزیراعظم کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حماس نے کبھی بھی اور کسی بھی معاہدے کے تحت مزاحمت کے ہتھیار حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔ فارس نیوز کے مطابق، تحریک حماس کے رہنما موسیٰ ابو مرزوق نے کہا کہ نیتن یاہو کو صہیونی قیدیوں کی واپسی پر فخر کرنے کا حق نہیں، کیونکہ وہ سب مزاحمت کی شرائط پر ہونے والے معاہدے کے تحت رہا ہوئے۔ ابو مرزوق نے الجزیرہ مباشر کو بتایا کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ حماس نے کسی معاہدے کے تحت مزاحمت کے ہتھیار حوالے کرنے پر اتفاق کیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت نے ٹرمپ کے منصوبے کو مجموعی فریم ورک کے طور پر قبول کیا ہے، لیکن ہتھیاروں کا مسئلہ ابھی مذاکرات میں زیر بحث نہیں آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی سے متعلق کسی بھی انتظامات کو تحریک حماس کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ انجام دیا جانا چاہیے۔
ابو مرزوق نے کہا کہ حماس نے مصری ثالث کے ذریعے غزہ کے انتظامی فلسطینی کمیٹی میں صرف دو ناموں پر اعتراض کیا تھا، جن میں سے ایک کو ہٹا دیا گیا۔ تحریک حماس کے اس سینئر رہنما نے کہا کہ مزاحمت نے ایک ماہ قبل ہی ثالثوں کو آخری صہیونی قیدی ران گفیلی کی لاش کے مقام سے متعلق معلومات فراہم کر دی تھیں۔ حماس کے سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے بھی العربی ٹی وی کو بتایا کہ صہیونی قابضین غزہ کی انتظامی کمیٹی کے ارکان کے داخلے میں تاخیر کے ذمہ دار ہیں۔ بدران نے کہا کہ ٹیکنوکریٹ کمیٹی کو غزہ کی پٹی کے تمام امور کا کنٹرول سنبھالنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہتھیاروں کا معاملہ فلسطینی مسئلہ ہے اور صرف حماس تک محدود نہیں۔
صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ رات اپنے بیان میں کہا کہ تمام قیدیوں اور لاشوں کی واپسی کے بعد اب یہ حکومت حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ کو ہتھیاروں سے پاک کرنے پر توجہ مرکوز کرے گی، اور کسی بھی صورت فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دے گی بلکہ دریائے اردن سے بحیرہ روم تک پورے علاقے کو اپنی سیکورٹی کے تحت رکھے گی، جس میں غزہ بھی شامل ہے۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ حکومت نے رفح کراسنگ کو محدود طور پر دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا ہے اور غزہ میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے تمام افراد کی مکمل تلاشی لی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ رفح کراسنگ کی سیکورٹی کی ذمہ داری اسرائیل کے پاس ہوگی جبکہ فلسطینی اتھارٹی صرف داخلے اور خروج پر مہر لگانے کی ذمہ دار ہوگی۔