آپریشن سندور پر جواب کے لئے وزیراعظم پارلیمنٹ میں موجود رہیں: انڈیا اتحاد کا مطالبہ
21
M.U.H
22/07/2025
نئی دہلی: حزبِ اختلاف کے اتحاد انڈین نیشنل ڈیولپمنٹل انکلوسیو الائنس (انڈیا) میں شامل جماعتوں نے منگل کو فیصلہ کیا کہ مانسون اجلاس کے دوران پہلگام دہشت گردانہ حملے، آپریشن سندور، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے متعلق دعوے، بہار میں ووٹر لسٹ کے خصوصی گہرائی سے تجزیے اور دیگر چند اہم امور پر سوالات کے جوابات حاصل کرنے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کی پارلیمنٹ میں موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالا جائے گا۔
یہ فیصلہ پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں حزبِ اختلاف کے اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ کی میٹنگ میں کیا گیا۔ اس میٹنگ میں راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے رام گوپال یادو، ڈی ایم کے کے ٹی آر بالو اور کئی دیگر پارٹیوں کے رہنما موجود تھے۔
کانگریس کے تنظیمی جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال نے 'ایکس' (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں کہا،راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی موجودگی میں INDIA اتحاد کے رہنماؤں کی ایک میٹنگ ہوئی۔ حزبِ اختلاف نے اہم امور پر سوالات کے جوابات حاصل کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کی موجودگی کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام دہشت گرد حملہ، آپریشن سندور، جنگ بندی سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان، بہار میں SIR عمل، حلقہ بندی، دلتوں، قبائلیوں، پسماندہ طبقات اور خواتین پر بڑھتے مظالم، احمدآباد طیارہ حادثہ اور منی پور میں جاری تشدد کے مسائل کو سب سے زیادہ ترجیح دی جانی چاہیے۔
حکومت نے پیر کو پہلگام دہشت گرد حملے اور آپریشن سندور پر لوک سبھا میں 16 گھنٹے کی بحث کرانے پر رضامندی ظاہر کی ہے، اور یہ بحث آئندہ ہفتے سے شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم حزبِ اختلاف کا مطالبہ ہے کہ یہ بحث اسی ہفتے شروع کی جائے۔