شام میں ایندھن کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ، حسکہ، دیر الزور، رقہ اور حلب میں عوامی مظاہرے
50
M.U.H
14/09/2026
شام کی غاصب جولانی حکومت کے خلاف مختلف شہروں حسکہ، دیر الزور، رقہ اور حلب کے نواحی علاقوں میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف عوامی مظاہرے ہوئے۔ بعض علاقوں میں مظاہرین نے سڑکیں بھی بند کردیں۔ شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً 40 فیصد اضافے کے بعد مختلف علاقوں میں احتجاج کی کالز میں اضافہ ہوا ہے۔ عوام کو خدشہ ہے کہ اس فیصلے سے روزمرہ زندگی متاثر ہوگی، کیونکہ ایندھن کی قیمتوں کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ، حرارتی نظام اور دیگر خدمات پر پڑتا ہے۔
جولانی حکومت کی وزارت توانائی نے قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی سطح پر ایندھن کی فراہمی کے غیر معمولی اخراجات میں اضافہ اور بانیاس ریفائنری کی تقریباً دو ماہ تک مرمت کے لیے بندش کو قرار دیا ہے۔ وزارت کے مطابق اس صورتحال کے باعث پیٹرول، ڈیزل اور فیول آئل کی درآمد کی ضرورت عارضی طور پر بڑھ گئی ہے۔ وزارت توانائی نے بتایا کہ شام کو روزانہ تقریباً 3 لاکھ بیرل تیل اور اس کی مصنوعات کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ ملکی خام تیل کی پیداوار تقریباً ایک لاکھ بیرل یومیہ ہے، جس کے باعث ضروریات کا ایک حصہ درآمد کرنا پڑتا ہے۔