آیت اللہ خامنہ ای کے قتل پر ہندوستان کو تعزیت جاری کرنی چاہیے تھی: ششی تھرور
13
M.U.H
20/03/2026
نئی دہلی:کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے جمعہ کے روز کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر ہندوستان کی جانب سے بروقت تعزیت کا اظہار کرنا “سب سے مناسب قدم” ہوتا، چاہے امریکہ-اسرائیل کی کارروائی کی مذمت نہ بھی کی جاتی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے شدید تنازعات کے دوران حکومت کو تحمل سے کام لینا چاہیے، اور اگر کانگریس کی حکومت ہوتی تو وہ بھی یہی مشورہ دیتے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ہندوستان کو خامنہ ای کے قتل پر تعزیت ظاہر کرنی چاہیے تھی، تو ششی تھرور نے کہا کہ میں ناقدین سے اتفاق کرتا ہوں۔ تنازع کے پہلے ہی دن، جب سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کیا گیا، ہمیں تعزیت کا اظہار کرنا چاہیے تھا۔ یہ سب سے مناسب قدم ہوتا۔ ان کے ملک میں کردار کو دیکھتے ہوئے یہ درست عمل ہوتا۔کانگریس رہنما نے 2024 میں ایران کے سابق صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت کے بعد ہندوستان کے مؤقف کو بھی یاد کیا۔
انہوں نے کہا کہ جب صدر رئیسی کا ہیلی کاپٹر حادثے میں انتقال ہوا تھا، تو ہم نے فوراً سوگ کا اعلان کیا اور تعزیت پیش کی تھی۔ تاہم مجھے خوشی ہے کہ جب دہلی میں ایرانی سفارت خانے نے تعزیتی کتاب کھولی، تو ہمارے خارجہ سیکریٹری کو فوری طور پر تعزیت کے لیے بھیجا گیا۔انہوں نے تعزیت اور مذمت کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ امریکہ-اسرائیل کی کارروائی کی مذمت نہ کرنا ایک سیاسی فیصلہ ہو سکتا ہے، لیکن کم از کم سوگواروں کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا جا سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ تعزیت اور مذمت میں فرق ہوتا ہے۔ اگر آپ سیاسی طور پر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ آپ امریکہ-اسرائیل کے حملے کی مذمت نہیں کریں گے، تو یہ ٹھیک ہے۔ لیکن تعزیت سوگوار خاندان، حکومت اور ایران کے عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار ہوتی ہے۔ یہ کام ہم کر سکتے تھے۔
جب ان سے انگریزی اخبار میں شائع اپنے مضمون کے بارے میں پوچھا گیا، جو ان کی پارٹی کے مؤقف سے مختلف تھا، تو تھرور نے کہا کہ اپوزیشن میں رہ کر اخلاقی مؤقف اختیار کرنا آسان ہوتا ہے، لیکن حکومت کو “تحمل کو طاقت” کے طور پر اپنانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں سونیا گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی بات کو سمجھتا ہوں، کیونکہ اپوزیشن میں رہ کر ہم اخلاقی مؤقف اختیار کر سکتے ہیں۔ میرا مضمون زیادہ تر اس بارے میں ہے کہ حکومت کو کیا کرنا چاہیے۔ سچ کہوں تو اگر میں کانگریس حکومت کو بھی مشورہ دیتا، تو میں یہی کہتا کہ اس وقت تحمل سے کام لیا جائے۔ تحمل کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے، یہ اس بات کا اظہار ہے کہ ہمیں اپنے مفادات کا علم ہے اور ہم سب سے پہلے ان کے تحفظ کے لیے کام کریں گے۔