نجی احاطے میں نماز اور عبادت کے لئے کسی پیشگی اجازت کی ضرورت نہیں: الہ آباد ہائی کورٹ
17
M.U.H
03/02/2026
الہ آباد ہائی کورٹ نے کل یعنی2 فروریکو ایک اہم فیصلہ سنایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی فرد یا برادری کو اپنے نجی احاطے میں مذہبی اجتماعات منعقد کرنے کے لیے ریاستی حکومت یا انتظامیہ سے پیشگی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ حق ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت ضمانت دیے گئے بنیادی حقوق کا حصہ ہے، جسے عام حالات میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی آزادی ہے۔ جب کوئی مذہبی سرگرمی مکمل طور پر نجی ملکیت میں اور پرامن طریقے سے کی جاتی ہے، تو قانون کے دائرہ کار میں اجازت پر مجبور کرنا مناسب نہیں ہے۔ ایسے معاملات میں انتظامی مداخلت آئین کی بنیادی روح کے منافی ہو گی۔
تاہم، عدالت نے واضح کیا کہ یہ آزادی صرف اس صورت میں درست ہے جب مذہبی اجتماعات مکمل طور پر نجی احاطے میں منعقد ہوں۔ اگر اجتماع کی نوعیت ایسی ہے کہ اس کا اثر کسی عوامی علاقے میں پھیلتا ہے، یا اس سے امن عامہ، امن یا ٹریفک میں خلل پڑتا ہے تو انتظامیہ ضروری کارروائی کر سکتی ہے۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ عوامی مقامات پر کسی بھی مذہبی اجتماع، تقریب یا جلوس کے انعقاد سے قبل متعلقہ پولیس یا انتظامیہ کو پیشگی اطلاع دینا لازمی ہے۔ عوامی اجتماعات کے دوران امن و امان برقرار رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور اس لیے ایسے معاملات میں ضابطوں کی پابندی ضروری ہے۔
یہ فیصلہ نجی جگہوں پر نماز کے اجتماعات کے انعقاد پر انتظامی اعتراض کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کے دوران آیا۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ نجی املاک پر پرامن مذہبی سرگرمیوں پر پابندی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے اس دلیل سے اتفاق کرتے ہوئے انتظامی کارروائی کو بلا جواز قرار دیا۔
اس فیصلے کو مذہبی آزادی سے متعلق مستقبل کے مقدمات کے لیے ایک اہم نظیر سمجھا جاتا ہے۔ اس سے یہ واضح پیغام جاتا ہے کہ نجی زندگی اور نجی املاک میں آئین کی طرف سے فراہم کردہ حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے، بشرطیکہ وہ عوامی امن و امان میں خلل نہ ڈالیں۔