بھارت سرکارامریکہ اور اسرائیل کے بجائے ایران کے ساتھ مضبوط روابط استوار کرے: علماءاور اسکالرز حضرات
7
M.U.H
02/02/2026
امام خمینی انٹرنیشنل ایوارڈسے نوازے جانے پر مولاناکلب جوادنقوی کے اعزاز میں ہندو،مسلم ،سکھ ،عیسائی ایکتا منچ کی جانب سے تقریب کا انعقاد،مختلف مذاہب کی اہم شخصیات نے شرکت کی
لکھنؤ:مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری ،امام جمعہ مولانا سید کلب جوادنقوی کو ایران میں امام خمینی انٹر نیشنل ایوارڈ سے نوازے جانے پر انجمن ہائی ماتمی اور ہندو،مسلم ،سکھ عیسائی ایکتامنچ کی جانب سے تاریخی چھوٹے امام باڑے میں ایک تقریب کا انعقاد ہواجس میں ہندوستان کی معروف شخصیات نے مولاناکلب جوادنقوی کو اس اعزاز پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے ایران حکومت کا شکریہ اداکیانیز بھارت سرکار سے ایران کے ساتھ مزید مضبوط تعلقات قائم کرنے کا مطالبہ کیا ۔اس موقع پر ایران کے انقلاب اور رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای کی حمایت میں نعرے بھی لگے ،نیز امریکہ و اسرائیل کے خلاف مردہ باد کے فلک شگاف نعرے بھی بلند کئے گئے ۔اس موقع پر ایران اور رہبر انقلاب اسلامی کے خلاف ہندوستانی میڈیا کے منافرانہ اور منافقانہ رویے کی بھی مذمت کی گئی ۔
تقریب کا آغاز مولانا منظر علی عارفی نے قرآن مجید کی تلاوت سے کیا۔اس کے بعد عادل فراز کی نظامت میں تقریب کا باضابطہ آغاز ہوا۔سوامی سارنگ نے اپنی تقریر میں کہاکہ آج ہم کسی شخص نہیں بلکہ ایک شخصیت کے خدمات کا اعتراف کررہے ہیں ۔اس عالمی اعزاز پر ہم فخر محسوس کررہے ہیں ۔یہ اعزاز صرف مولانا کو نہیں دیاگیابلکہ ا س سے ہمارے ملک ،ہماری ریاست اور ہمارے شہر لکھنؤ کی بھی عزت افزائی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ظلم خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہومگر صبر سے زیادہ طاقت ور نہیں ہوسکتا،یہ پیغام ہمیں کربلا سے ملتاہے ۔آج ایران بھی اسی راستے پر ہے اورطاقت ور ظالموں کے خلاف استقامت کا مظاہرہ کررہاہے ۔
سماجوادی پارٹی کے قومی ترجمان نتیندر یادو نے اپنی تقریر میں مولاناکو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہاکہ بھارت ’وشوو گرو اسی بناپر ہوسکتاہے کہ ہم سبھی مذاہب کا احترام کریں ۔انہوں نے کہاکہ انتہاپسندی کسی بھی مذہب میں ہووہ کبھی امن قائم نہیں کرسکتی ۔انہوں نے کہاکہ مذہب کبھی ظلم اور اختلاف کی دعوت نہیں دیتا۔مذہب کو سمجھناہے تو فطرت کے ذریعہ سمجھیے جو بلاتفریق مذاہب سب کے لئے ہے ۔ہماری آراء ،عقائد اور مذاہب مختلف ہوسکتے ہیں مگر اس کو نفرت اور اختلاف کی بنیاد نہیں بنایاجاسکتا۔
اے .آئی.سی.سی. کے رکن اشوک سنگھ نے اپنے خطاب میں کہاکہ یہ ایوارڈ ہمارے شہر اور ملک کے لئے فخر کا باعث ہے ۔مولاناکلب جواداور ان کا خاندان ہمیشہ اتحاد کے لئے کوشاں رہاہے اسی کا نتیجہ ہے جو آج عالمی سطح پر ان کی عزت افزائی ہوئی ہے ۔عام آدمی پارٹی کے ترجمان پرتی پال سنگھ نے اپنی تقریر میں مولاناکو مبارک باد دیتے ہوئے کہاکہ ہمیں اپنے ملک میں آپسی بھائی چارے کو فروغ دیناچاہیے اور سکھ سماج کا بھی یہی پیغام ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس ملک کی آزادی میں سبھی مذاہب کے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں ان کو نظر انداز نہیں کہاجاسکتا۔آج فرقہ پرست طاقتیں ہمارے اتحاد کو توڑناچاہتی ہیں مگر ہم انہیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔انہوں نے کہاکہ ہماری پارٹی نے ہمیشہ ایران کی حمایت کی اور امریکی پالیسیوں کی مذمت کی ہے ۔یقیناًہندوستان کے لوگ امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کو پسند نہیں کرتے ۔ٹرمپ مسلسل بھارت کے خلاف ٹیرف عائد کررہاہے ،اس اقدام کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں اور بھارت سرکار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے روابط کو بہتر بنائے اورموجودہ تعلقات کو مزید تقویت دے۔
ایڈوکیٹ سریش پانڈے ،سابق صدر بار ایسو سی ایشن لکھنؤ ،نے اپنی تقریر میں کہاکہ یہ اعزاز بھارت ایران دوستی کی پہچان ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنے ملک میں بھائی چارے کے پیغام کو عام کرناچاہیے جس طرح ہمارے ملک کی آزادی کے لئے سبھی نے مل جل کر قربانیاں دی تھیں ،اسی طرح ہمیں آج بھی متحد ہوکر بین الادیان ہم آہنگی کو قائم کرناہوگا۔مولانا فضل منان واعظی ،امام ٹیلے والی مسجد ، نے اپنے خطاب میں کہاکہ یہ صرف ایوارڈ نہیں بلکہ ہمارے ملک کا افتخار ہے ،اس لئے ہماری حکومت کو چاہیے کہ وہ ایران کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرے ۔انہوں نے بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت پر بھی فکر مندی کا اظہار کیا۔
بدھ دھرم سے تعلق رکھنے والے پوجیہ بھنتےجی شری دیپانکرجی نے کہاکہ ہم مولاناکو اس اعزاز پر مبارک باد پیش کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہمارے درمیان اختلاف اس لئے بڑھ رہے ہیں کیونکہ ہم مذہبوں اور ذاتوں میں بٹ گئے انسانیت ختم ہوگئی ۔ہمیں اپنے ملک کے نام کو روشن رکھنے کے لئے امن کا پیغامبر بننا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان میں نفرت کا بیانیہ ختم کرناہوگاتاکہ ملک مزید ترقی کی راہیں طے کرسکے ۔
مولانا رضا حیدر زیدی نے اپنے خطاب میں مولاناکو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ایران اور بھارت کی دوستی پر زور دیا۔انہوں نے کہاکہ ہمیشہ جو بڑی طاقتیں رہی ہیں انہوں نے کمزور لوگوں کو غلام بنانے کی کوشش کی ہے ،اس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی رہی ہیں ۔شاہ ایران کے زمانے میں بھی یہی ہوا۔امام خمینیؒ نے اس فکر کے خلاف جنگ کی اور ایران میں نظام ولایت فقیہ نافذ ہواجس میں عدل وانصاف کی بالادستی قائم ہوئی ۔آج بڑی طاقتیں اسی نظام کو ختم کرنے کے لئے کوشاں ہیں ۔ان کا مقصد ایران کو ختم کرنانہیں بلکہ نظام ولایت کو ختم کرناہے ۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان نے اقوام متحدہ میں جس طرح ایران کی حمایت کی ہم اس کی ستائش کرتے ہیں اور ہم پوری طرح حکومت کے موقف کی تائید کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اگر عزت سے سراٹھاکر جیناچاہتے ہوتو ظالموں کے خلاف کھڑے ہوناہوگا۔ہمیں ہرگز عالمی طاقتوں کے سامنے سر نہیں جھکاناہے اگر جھک گئے تو پھر غلامی کا قلادہ ہماری گردنوں میں ڈال دیاجائے گا،اس لئے ہماری حکومت کو امریکہ اور اسرائیلی کی آمریت کے خلاف کھڑاہوناچاہیے۔
مولانا کلب جواد نقوی نے تمام مہمانوں اور پروگرم کے بانیان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس اعزاز پر حکومت ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور بھارت سرکار سے اپیل کرتے ہیں کہ ایران کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو مزید تقویت دی جائے ۔انہوں نے کہاکہ جہاد کے بارے میں اسلام دشمن طاقتوں نے غلط تشریح پیش کی ہے تاکہ غیر مسلموں کو اسلام کے خلاف مشتعل کیاجاسکے ۔انہوں نے کہاکہ جہاد کے معنی کسی کی جان لینایا گلے کاٹنا نہیں ہے ۔بلکہ جہاد کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی بھی نیک کام کے لئے اپنی پوری توانائی صرف کردے ،یہی جہاد ہے ۔انہوں نے کہاکہ اگر کسی نے اندھیرے میں ایک چراغ جلادیاتو یہ اندھیرے کے خلاف جہاد ہے ۔اگر کسی نے جہالت کے خلاف کوئی تعلیمی ادارہ قائم کردیاتو اسلام میں یہ جہالت کے خلاف جہاد کہلاتاہے ۔مولانانے کہاکہ امریکی صدر ایساظالم ہے جو پاگل بھی ہے ۔اس کا کوئی بھروسہ نہیں کس ملک پرکب حملہ کردے ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت ایران کو چاروں طرف سے گھیر لیاگیاہے اور دنیا مشوش ہے کہ جیت کس کی ہوگی ۔اللہ کا منصوبہ ہمیشہ یہی رہاہے کہ بڑی طاقتوں کو چھوٹی طاقتوں کے ذریعہ شکست دی ہے ۔انہوں نے کہاکہ شور مچاہواہے کہ امریکی بیڑہ آرہاہے ،دراصل یہ بیڑہ نہیں ’بہیڑہ ‘ ہے ،سیدھاکامیاب ہوتاہے جو ’بہیڑہ ‘ ہوتاہے اسکا بیڑا غرق ہوتاہے ۔انہوں نے کہا مشہور محاورہ ہے ’بیڑا غرق ہونا‘۔ یہ محاورہ امریکی بیڑے ’ابراہم لنکن ‘ کے غرق ہونے سے حقیقت میں تبدیل ہوگا۔انہوں نے کہاکہ امریکہ اس سے پہلے بھی ایران کے مقابلے میں رسواہواہے اور آئندہ بھی ذلت آمیز شکست ا س کا مقدر ہوگی ۔مولانانے کہاکہ امریکہ مرجعیت کا دشمن ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے جو اپنے حملے کے اہداف کی فہرست دی ہے اس میں قم اور مشہد کو شامل کیاہے بلکہ میں کہوں گاکہ اس میں نجف اور کربلا بھی شامل ہے کیونکہ امریکہ آیت اللہ سیستانی کا بھی دشمن ہے کیونکہ ان کی وجہ سے عراق میں امریکہ اور داعش کو شکست ہوئی تھی ،اس لئے ہمارے مقدس مذہبی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے ،لہذا ہم بھارت سے کہناچاہتے ہیں کہ اگر ہمارے مقدس مقامات اور مرجعیت کو ہلکا سا بھی گزند پہونچا تو ہم کسی بھی امریکی اور اسرائیلی کو بھارت میں اپنے مقدس مقامات میں داخل نہیں ہونے دیں گے ،اس میں ہمارے ساتھ ہندو بھی شامل ہیں اور دیگر مذاہب کے افراد بھی ۔مولانانے میڈیا کے رویے کی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ میڈیا کہہ رہاتھاکہ آیت اللہ خامنہ ای بنکر میں چھپ گئے ہیں جب کہ ابھی وہ مسجد جمکران میں تھے ۔دنیا سمجھ لے کہ ہماےبنکر زمین کے اندر نہیں ہوتے بلکہ زمین کے اوپر مساجد اور امام باڑے ہمارے بنکر ہیں مولانا نے مزید کہا کہ کچھ لوگ مسلم دشمنی میں اسرائیل کی حمایت کررہے ہیں مگر وہ صہیونت کے مذہبی نظریات سے واقف نہیں ۔انکی مذہبی کتاب تلمود میں لکھا ہے کہ اگر بیک وقت ایک کتا اور غیر یہودی کنویں میں گر جائے تو کتے کو بچالو مگر غیر یہودی کو ڈوبنے دو ،کیونکہ غیر یہودی کو جینے کا حق نہیں ۔اب ہندوستان کے غیر مسلم فیصلہ کریں کہ وہ کس کی حمایت کریں گے۔مولانا کی تقریر کے دوران ایران اور رہبر انقلاب کی حمایت میں نعرے لگائے گئے ساتھ ہی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مردہ باد کے نعرے بھی لگے ۔
مولانا تسنیم مہدی زید پوری،جناب اعجاز علی مینائی ،مولانا منظر علی عارفی،مولاناعلی عباس رضوی حائری اورمولانا علمدار حسین ،نے بھی اپنی تقاریر میں مولانا کلب جوادنقوی کو اس اعزاز پر مبارک باد پیش کی اور اس کو ہندوستان کے لئے باعث افتخار قراردیا۔درگاہ کاکوری شریف کے سجادہ نشین سید زین الحیدر علوی کی طرف سے سید بدرعلی عباس علوی نے پیغام پڑھا ۔شہر لکھنؤ کی مختلف انجمنوں اور معززافراد اور اہم شخصیات نے اس موقع پر مولاناکلب جوادنقوی کی گل پوشی کرکے مبارکباد پیش کی ۔مولانا محفوظ علی نے مولاناکلب جواد نقوی کے خدمات کے اعتراف میں منظوم نذرانہ پیش کیا۔آخر میں مولانا رضاحسین رضوی اور صارم مہدی نے سبھی مہمانوں کا شکریہ اداکیا۔
جلسے میں مولانا حیدر عباس رضوی،مولانا تفسیر حسین ،مولانا شباہت حسین ،مولانا فیروز حسین ،مولانا علمدار حسین کانپور ،مولانا حامد حسین ،مولانا فیروز حیدر ،مولانا فاضل عباس ،مولانا تنویر حیدر ،مولانا علی عباس رضوی جونپور ،مولانا ،رضا حسین رضوی ،عبد النصیر ناصر ،اکرم ندوی ،عامر صابری ،مولانا حسین مہدی ،مولانا كکمیل عباس ،مولانا نظر عباس ،مولانا غلام رضا ،مولانا شاہد حسین ،مولانا قمرالحسن ،حسن جعفر،مولانا امیر حیدر،مولانا آغا مہدی ،ڈاکٹر محمد کامران،اطہرحسین ،بھیم آرمی کے کارکنان اور اس کے رکن شبھم چودھری،امام عباس مدیر صحافت اور دیگر علماء و اہم افراد نے شرکت کی ۔نظامت کے فرائض عادل فراز نے انجام دئیے ۔