اسرو کا جی ایس ایل وی-ایف 18 مشن کامیاب، ’ناوک‘ نیویگیشن نظام کو ملے گی نئی تقویت؛ وزیر اعظم مودی نے سائنس دانوں کو دی مبارک باد
37
M.U.H
31/10/2026
وزیراعظم نریندر مودی نے این وی ایس-03 کو لے جانے والے جی ایس ایل وی-ایف 18 کے کامیاب تجربے پر ’انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن‘ (اسرو) کے سائنس دانوں اور انجینئروں کو مبارک باد دی۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہ مشن ’ناوک‘ کو مضبوط کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے، جو ہندوستان کا اپنا مقامی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام ہے۔ وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ مشن ہمارے مقامی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام ’ناوک‘ کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ بہتر صلاحیتوں سے لیس این وی ایس-03 اہم ٹیکنالوجیز میں خود کفیل بننے کی ہماری کوششوں کو آگے بڑھائے گا اور ایسی نیویگیشن خدمات کی فراہمی میں مدد کرے گا، جن سے ہمارے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔ ہمارے خلائی سائنس دانوں کی لگن اور ان کی بصیرت مسلسل ہمارے ملک کا سر فخر سے بلند کر رہی ہے۔
انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے 30 اکتوبر بروز جمعہ کو آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر سے نیکسٹ جنریشن نیویگیشن سیٹلائٹ این وی ایس-03 کو لے جانے والے اپنے جی ایس ایل وی-ایف 18 راکٹ کو کامیابی کے ساتھ لانچ کیا۔ 50 میٹر بلند لانچ وہیکل نے 24 گھنٹے کے کاؤنٹ ڈاؤن کے بعد رات 11 بج کر 51 منٹ پر اسپیس پورٹ کے دوسرے لانچ پیڈ سے اڑان بھری۔ تازہ ترین اپ ڈیٹ میں اسرو نے مشن کی کامیابی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ راکٹ نے سیٹلائٹ کو اس کے مقررہ ’جیو سنکرونس ٹرانسفر آربٹ‘ (جی ٹی او) میں نصب کر دیا ہے۔ 420 ٹن وزنی اس 3 مرحلوں والے راکٹ نے 2232 کلوگرام وزنی این وی ایس-03 سیٹلائٹ کو اپنے ساتھ لے کر پرواز کی۔ امید ہے کہ اس مشن سے ہندوستان کی خود مختار سیٹلائٹ نیویگیشن صلاحیتوں کو مزید تقویت ملے گی۔
این وی ایس-03، اسرو کی نیکسٹ جنریشن نیویگیشن سیٹلائٹ سلسلے کا تیسرا سیٹلائٹ ہے۔ اسے ’انڈین ریجنل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم‘ (آئی آر این ایس ایس) کے تحت خدمات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جسے عام طور پر ’ناوک‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسرو کے مطابق اس سیٹلائٹ میں بیرون ملک سے حاصل کی گئی ایٹمی گھڑیوں کے ساتھ ساتھ مقامی تیار کردہ ایٹمی گھڑی بھی نصب ہے۔ اس کے علاوہ اس میں پہلے سے موجود ایل5 اور ایس بینڈ سگنلز کے ساتھ ایل1 فریکوئنسی سگنل بھی شامل کیا گیا ہے۔ اسرو نے بتایا کہ سیٹلائٹ میں بیرون ملک سے حاصل کی گئی ایٹمی گھڑیوں کے ساتھ ساتھ مقامی طور پر تیار کردہ ایٹمی گھڑیاں بھی نصب ہیں۔ اس میں موجودہ ایل5 اور ایس سگنلز کے علاوہ ایل ایک سگنل بھی شامل ہے، جو ہندوستانی خطے اور ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے اطراف 1500 کلومیٹر کے دائرے تک کوریج فراہم کرتا ہے۔ ایل1 سگنل کی شمولیت سے اسمارٹ فون اور پہننے کے قابل جدید ٹیکنالوجی جیسے جدید شہری نیویگیشن آلات کے ساتھ اس کی مطابقت بہتر ہونے کی امید ہے۔