جوہر یونیورسٹی پر اب نیا بحران، ای ڈی کی کارروائی سے بڑھی ہلچل
5
M.U.H
24/10/2026
رامپور واقع جوہر یونیورسٹی ایک بار پھر تنازعات کے مرکز میں ہے۔ پہلے رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کی جانب سے نقشہ کے بغیر تعمیر کی گئی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے حکم کے بعد یونیورسٹی میں تعلیم کے حوالے سے بحران کا خدشہ گہرا ہو گیا تھا، اب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے ان عمارتوں کو ضبط کرنے کا عمل شروع کیے جانے کی خبروں کے باعث ایک بار پھر طلبا کی تعلیم متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
چند ماہ قبل یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کی کارروائی کے حکم کے بعد نہ صرف طلبا بلکہ سماجوادی پارٹی کے لیڈران و کارکنان بھی مخالفت میں اتر آئے تھے۔ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو بھی یونیورسٹی سے متعلق حکومت کی کارروائی پر سوال اٹھا چکے ہیں۔ ایسے میں اب ای ڈی کی کارروائی کی خبروں کے درمیان ایک بار پھر سیاسی بیان بازی اور احتجاج کا معاملہ گرم ہونے کا خدشہ ہے۔ یونیورسٹی کی عمارتوں کے خلاف کارروائی کا معاملہ اب صرف تعمیراتی ضابطوں تک محدود نہیں رہ گیا ہے۔ اس سے طلبا کی تعلیم، ادارے کی سرگرمیوں اور مقامی سیاست پر بھی اثر پڑنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔
رامپور واقع جوہر یونیورسٹی ایک بار پھر تنازعات کے مرکز میں ہے۔ پہلے رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کی جانب سے نقشہ کے بغیر تعمیر کی گئی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے حکم کے بعد یونیورسٹی میں تعلیم کے حوالے سے بحران کا خدشہ گہرا ہو گیا تھا، اب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے ان عمارتوں کو ضبط کرنے کا عمل شروع کیے جانے کی خبروں کے باعث ایک بار پھر طلبا کی تعلیم متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
چند ماہ قبل یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کی کارروائی کے حکم کے بعد نہ صرف طلبا بلکہ سماجوادی پارٹی کے لیڈران و کارکنان بھی مخالفت میں اتر آئے تھے۔ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو بھی یونیورسٹی سے متعلق حکومت کی کارروائی پر سوال اٹھا چکے ہیں۔ ایسے میں اب ای ڈی کی کارروائی کی خبروں کے درمیان ایک بار پھر سیاسی بیان بازی اور احتجاج کا معاملہ گرم ہونے کا خدشہ ہے۔ یونیورسٹی کی عمارتوں کے خلاف کارروائی کا معاملہ اب صرف تعمیراتی ضابطوں تک محدود نہیں رہ گیا ہے۔ اس سے طلبا کی تعلیم، ادارے کی سرگرمیوں اور مقامی سیاست پر بھی اثر پڑنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جوہر یونیورسٹی کی 40 عمارتوں میں سے 38 کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے آر ڈی اے نے 15 جولائی 2026 کو انہیں منہدم کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس حکم کو ڈویژنل کمشنر کی عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ 22 اکتوبر کو سماعت کے دوران یونیورسٹی کی جانب سے 17 عمارتوں کے نقشے پیش کیے گئے۔ باقی دستاویزات پیش کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں اگلی سماعت 23 نومبر کو مقرر ہے۔ فی الحال انہدام کے حکم پر عبوری روک لگی ہوئی ہے۔