جنرل عبداللّہی: خلیج فارس میں امریکی جنگی بیڑوں کو نہیں آنے دیا جائے گا
64
M.U.H
24/10/2026
تہران: اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اور خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے سربراہ جنرل عبداللّہی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افوج نے خدا پر توکل کے ساتھ امریکی بحریہ کو جس کو ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام امریکی طاقت کی علامت قرار دیتے ہیں اور علاقے نیز دنیا کو اس سے ڈراتے ہیں، ناکارہ بنادیا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ اب امریکی بحریہ خلیج فارس اور اس سے ملحقہ سمندری حدود کے قریب بھی آنے کی جرائت نہیں کرسکتی۔
ایران کی مسلح افواج کے سربراہ کہا ہے کہ اب وہ خلیج فارس میں آنے کی آرزو اپنے ساتھ قبر میں لے جائے گی۔
انھوں نے کہا ہے کہ ہم کسی بھی حال میں امریکی جنگی جہازوں کو خلیج فارس میں آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
جنرل عبداللّہی نے کہا ہے ٹرمپ نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات ختم ہوگئی ہیں اوراسی کے ساتھ مسلسل یہ کہرہے ہیں کہ ایران کو جوہری اسلحہ نہیں بنانا چاہیے، اور ان کی یہ کھلی تضاد بیانی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔
جنرل عبداللّہی نے ٹرمپ کو مخاطب کرکے کہا کہ اگر تم نے ایران کی ایٹمی تنصیبات ختم کردی ہیں تو یہ ہذیان کیوں جاری ہے؟
انھوں نے کہا کہ ٹرمپ کی اس بکواس اور تضاد بیانی کا مقصد عالمی رائے عامہ بالخصوص امریکی عوام کو دھوکہ دینے کے علاوہ اورکچھ نہیں ہے۔
جنرل عبداللّہی نے کہا کہ اگر تم نے ایران کی فوجی توانائی ختم کردی ہے توتمھارے زنگ آلود جنگی بیڑے اور بزدل فوجی آبنائے ہرمز اور ایران کی بحری اور زمینی سرحدوں کے قریب آنے کی جرائت کیوں نہیں کرتے؟
انھوں نے امریکی حکام کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ خدا کی نصرت اور فضل وکرم سے ایران محکم اور قوی ہے اور مقابلہ جتنا طولانی ہوگا، تم اتنا ہی پستی اور زوال کی دلدل میں دھنستے جاؤگے۔