کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری کا دعویٰ: گیانیش کمار نے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کی پیشکش کی تھی
29
M.U.H
27/09/2026
ترواننت پورم: کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری ججی تھامسن نے الزام لگایا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار نے انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کی پیشکش کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ کامیابی کی صورت میں انہیں ’مرکزی وزیر‘ بنایا جا سکتا ہے۔
طیارے میں انتخاب لڑنے کی پیشکش کا دعویٰ
تھامسن کے ان دعوؤں کے بعد کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے ریاستی سکریٹری بنوئے وشوم نے گیانیش کمار پر سخت سیاسی حملہ کیا ہے۔ 2016 میں کیرالہ کے چیف سکریٹری کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے ججی تھامسن نے بتایا کہ گیانیش کمار نے یہ تجویز دہلی جانے والی ایک پرواز کے دوران دی تھی، جب دونوں ایک ساتھ سفر کر رہے تھے۔
بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کا آفر
تھامسن کے مطابق، گیانیش کمار نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا وہ بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ انتخاب جیت جاتے ہیں تو انہیں مرکزی وزیر بنایا جا سکتا ہے۔ تھامسن کا دعویٰ ہے کہ گیانیش کمار نے انہیں چیف سکریٹری کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد بی جے پی میں شامل ہونے کا مشورہ بھی دیا تھا۔ ججی تھامسن نے کہا کہ انہوں نے گیانیش کمار سے واضح طور پر کہا تھا کہ انہیں انتخابی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔ ان کے مطابق، انہیں اس بات پر حیرت ہوئی کہ گیانیش کمار کی جانب سے اس طرح کی پیشکش کی گئی۔
بنوئے وشوم نے استعفیٰ دینے کا کیا مطالبہ
تھامسن کے انکشاف پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری بنوئے وشوم نے چیف الیکشن کمشنر پر سخت تنقید کی اور ان سے فوری طور پر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ وشوم نے پیشکش کو ’شرمناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے گیانیش کمار کے سیاسی تعلقات اور سرکاری ملازمت کے دوران ان کے طرز عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس انکشاف سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ گیانیش کمار بی جے پی کے لیے کس حد تک جانے کے لیے تیار تھے۔ وشوم نے یہ الزام بھی لگایا کہ مختلف عہدوں پر رہتے ہوئے گیانیش کمار بی جے پی کے قریب ہو گئے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمار فوری طور پر چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
انتخابی کمیشن کے کام پر بھی سیاسی تنازع
وشوم نے جمعہ کے روز بھی الزام لگایا تھا کہ انتخابی کمیشن بی جے پی حکومتوں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی کی طرح کام کر رہا ہے اور کہا تھا کہ بائیں بازو کی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ اس کی مخالفت کریں۔ دوسری جانب، انتخابی کمیشن نے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ دوسرے انتخابی کمشنروں کی جانب سے ظاہر کیے گئے اندرونی اعتراضات ادارہ جاتی اختلاف کی عکاسی کرتے ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ سوالات، تبصرے اور تکنیکی تجاویز کئی ارکان پر مشتمل آئینی ادارے کے معمول کے کام کا حصہ ہیں۔
گیانیش کمار اس وقت ہندوستان کے چیف الیکشن کمشنر ہیں اور انتخابی کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے 19 فروری 2025 کو ملک کے 26ویں چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا تھا۔ ججی تھامسن کے تازہ انکشاف نے گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع میں ایک اور سیاسی پہلو جوڑ دیا ہے۔ حالانکہ، بی جے پی کے ٹکٹ کی مبینہ پیشکش سے متعلق یہ باتیں تھامسن کے دعوے پر مبنی ہیں اور ان دعوؤں پر گیانیش کمار کا کوئی جواب سامنے آنے کی اطلاع نہیں ہے۔