حماس نے غیر مسلح ہونے کو اسرائیلی وعدوں کی تکمیل سے مشروط کردیا
6
M.U.H
31/07/2026
حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کے دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا اسرائیل جنگ بندی اور دیگر وعدوں پر عمل کرتا ہے یا نہیں۔ حماس کے مطابق مکمل غیر مسلح ہونے کا معاہدہ اسی صورت ممکن ہے جب امریکہ اور اسرائیل جنگ بندی سے متعلق اپنے وعدے پورے کریں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کی سربراہی میں قائم "بورڈ آف پیس" نے حماس اور غزہ میں موجود دیگر مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے۔ انہوں نے اسے اپنے 20 نکاتی امن منصوبے پر عمل درآمد کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے تحت جنگ کے خاتمے اور فلسطین میں نئی حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔ ٹرمپ کے مطابق غیر مسلح کرنے کے عمل کی تکمیل کے بعد اسرائیلی افواج غزہ سے انخلا کریں گی، جبکہ ایک بین الاقوامی استحکامی فورس نئی فلسطینی پولیس فورس کے ساتھ مل کر علاقے کی سکیورٹی سنبھالے گی۔
دوسری جانب حماس کے عہدیدار غازی حماد نے برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا کہ ان کی تنظیم اس وقت تک ہتھیار نہیں ڈالے گی جب تک اسرائیل غزہ میں حملے بند نہیں کرتا، انسانی امداد اور ضروری اشیا کی فراہمی میں اضافہ نہیں کرتا اور گزشتہ برس طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے مطابق اپنی افواج واپس نہیں بلاتا۔انہوں نے کہا کہ ثالثوں پر زور دیا گیا ہے کہ اسرائیل کو معاہدے پر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے۔