ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں، بحران کا سیاسی حل ضروری ہے: صدر پیوٹن
15
M.U.H
06/06/2026
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں فوری جنگ بندی اور سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ پرامن جوہری توانائی سے استفادہ ایران کا جائز حق ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے روس کے پاس ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جس سے ظاہر ہو کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے، جبکہ پرامن جوہری توانائی سے استفادہ ایران کا قانونی حق ہے۔
سینٹ پیٹرزبرگ اکنامک فورم کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پیوٹن نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور خطے کی صورتحال پر تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ روس شروع سے ہی بحران کے سیاسی حل اور جنگ کے جلد خاتمے کی حمایت کرتا رہا ہے اور تمام فریقوں کو تحمل اور کشیدگی میں کمی کی تلقین کرتا آیا ہے۔
روسی صدر کے مطابق ماسکو نے گزشتہ برسوں میں ایران اور خلیج فارس کے عرب ممالک کے ساتھ متوازن اور دوستانہ تعلقات استوار کیے ہیں اور ہمیشہ خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے جاری سفارتی کوششوں کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان کسی ممکنہ مفاہمت کے آثار دکھائی دے رہے ہیں اور روس کو امید ہے کہ یہ کوششیں مثبت نتائج دیں گی۔
پیوٹن نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ روس خطے میں جاری تنازع سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو کی ترجیح طویل المدت استحکام اور اپنے شراکت داروں کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں، اسی لیے وہ تنازع کے خاتمے کو اپنے مفاد میں سمجھتا ہے۔
انہوں نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بعض مقامات پر مسائل اور کشیدگی برقرار ہے، تاہم جنگ بندی سیاسی حل کے لیے ایک اہم موقع فراہم کر رہی ہے۔ روس تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور ضرورت پڑنے پر مصالحتی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
پیوٹن نے مزید کہا کہ روس ایران کے افزودہ یورینیم کو قبول کرنے اور پرامن جوہری منصوبوں میں تعاون جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے بقول، حالات معمول پر آنے کے بعد ایران میں جوہری تنصیبات کی تعمیر کے شعبے میں تعاون مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے روس سے کسی قسم کے ہتھیار طلب نہیں کیے اور روس نے بھی ایسا کوئی اقدام نہیں کیا۔