ہندوستان مغربی ایشیا میں امن کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار: مودی
8
M.U.H
15/05/2026
ابو ظہبی:وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے ساتھ ملاقات کی اور کہا کہ ہندوستان مغربی ایشیا میں امن قائم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون دینے کو تیار ہے۔
اس دوران دونوں فریقوں نے توانائی اور دفاعی شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کئی معاہدوں پر دستخط بھی کیے۔وزیرِ اعظم مودی اور النہیان کی یہ ملاقات مودی کے پانچ ممالک کے دورے کے پہلے مرحلے میں یو اے ای پہنچنے کے فوراً بعد ہوئی۔متحدہ عرب امارات کے رہنما کے ساتھ ملاقات کے آغاز میں مودی نے کہا کہ ہم یو اے ای پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔
ایران اور امریکہ۔اسرائیل جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات ایرانی حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ یہاں امریکہ کا ایک اہم فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔مودی نے کہا یو اے ای کو جس طرح نشانہ بنایا گیا، وہ ناقابلِ قبول ہے، لیکن یو اے ای نے جس تحمل اور بردباری کے ساتھ موجودہ صورتحال کو سنبھالا ہے، وہ قابلِ ستائش ہے۔
وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ مغربی ایشیا کے تنازع کا اثر عالمی سطح پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان مغربی ایشیا میں امن قائم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون دینے کو تیار ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے کئی اہم معاہدوں پر دستخط کیے۔وزارتِ خارجہ نے کہا کہ انڈین اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو لمیٹڈ، جو ملک کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کی دیکھ بھال کرنے والی سرکاری کمپنی ہے، نے ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی کے ساتھ “اسٹریٹجک تعاون” کے مقصد سے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
اس معاہدے کا مقصد توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانا، ہندوستان کے پیٹرولیم ذخائر میں اضافہ کرنا اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) اور مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) ذخیرہ مراکز میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے ایل پی جی میں “اسٹریٹجک تعاون” کے معاہدے پر بھی دستخط کیے، جس کا مقصد ہندوستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی گھریلو ایندھن گیس کی طویل مدتی فراہمی، معاشی استحکام اور توانائی شراکت داری کو یقینی بنانا ہے۔وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ہندوستان اور یو اے ای نے دفاعی صنعتی تعاون کو مضبوط بنانے، اختراع اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کو فروغ دینے اور قومی و علاقائی سلامتی کو مضبوط کرنے کے مقصد سے ایک اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں۔
وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جمعہ کی بات چیت بنیادی طور پر “توانائی، تجارت و سرمایہ کاری، بلیو اکانومی، ٹیکنالوجی بشمول فن ٹیک، دفاع اور عوامی روابط” پر مرکوز رہی۔ دونوں فریقوں نے مغربی ایشیا میں جاری پیش رفت اور دیگر عالمی مسائل پر بھی اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ جہاز رانی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔اس سے قبل یو اے ای پہنچنے پر وزیرِ اعظم کا ہوائی اڈے پر صدر نے استقبال کیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ یو اے ای اس دورے کو کتنی اہمیت دے رہا ہے۔
مودی کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
ایک خصوصی اعزاز کے طور پر ان کے طیارے کا متحدہ عرب امارات کے فوجی طیاروں نے استقبال کیا۔ مودی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں ابو ظہبی ہوائی اڈے پر استقبال کرنے پر یو اے ای کے صدر کے “مخلصانہ جذبے” کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔
مذاکرات سے قبل جاری پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ میں توانائی، سرمایہ کاری، سپلائی چین اور دیگر اہم شعبوں میں ہندوستان اور یو اے ای کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے ہونے والی بات چیت کا منتظر ہوں۔ یہ دورہ خلیجی ممالک کے درمیان تیل کی پیداوار کی پالیسیوں، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور اسرائیل و ایران سے متعلق علاقائی اتحادوں پر بڑھتے اختلافات کے پس منظر میں ہو رہا ہے۔
مغربی ایشیا میں بدلتے جغرافیائی و سیاسی منظرنامے نے اس خطے میں ہندوستان کی اسٹریٹجک اور سفارتی حکمتِ عملی میں نئی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے حال ہی میں پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے الگ ہونے کے فیصلے نے بھی عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ تجزیہ کار اس اقدام کو تیل پیدا کرنے والے ممالک کے گروپ کے اندر ابھرتے تناؤ اور ابو ظہبی کی زیادہ خودمختار توانائی پالیسی اپنانے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
یو اے ای کے دورے کے بعد مودی تجارت، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور گرین ٹرانزیشن اقدامات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے مقصد سے نیدرلینڈ، سویڈن، ناروے اور اٹلی کا بھی دورہ کریں گے۔