نیتن یاہو اور موساد سربراہ کے بعد اسرائیلی آرمی چیف کے بھی دورہ امارات کا انکشاف
9
M.U.H
15/05/2026
نیتن یاہو اور موساد کے سربراہ کے بعد صیہونی آرمی چیف ایال زمیر کے بھی دورہ امارات کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق، اسرائیلی چیف آف اسٹاف کا متحدہ عرب امارات کا دورہ ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے دوران ہوا۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، اسرائیلی چینل کان نے رپورٹ کیا کہ ایال زمیر، اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف، نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور اماراتی حکام سے ملاقات کی، جن میں امارات کے صدر محمد بن زاید شامل تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایال زمیر کے ابوظہبی دورے کے دوران دیگر اعلیٰ اسرائیلی فوجی افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ گزشتہ روز قبل بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ایران پر حملوں کے دوران خفیہ طور پر امارات کا دورہ کیا، اور اس ملاقات کو دونوں فریقوں کے تعلقات میں “تاریخی کامیابی” قرار دیا۔ تاہم، امارات نے ان رپورٹوں کی تردید کی۔ اسرائیلی چینل 12 نے رپورٹ کیا کہ تردید کی وجہ ابوظہبی کا تہران کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کا خوف ہے اگر خفیہ اسرائیلی ہم آہنگیوں کا انکشاف ہو جائے۔
موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے بھی ایران کے ساتھ جنگ کے دوران کم از کم دو بار متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، ایک بار مارچ میں اور دوسری بار اپریل میں، تاکہ ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے ضروری ہم آہنگیوں کو انجام دیا جا سکے۔ رپورٹوں کے مطابق، یہ دورے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان انٹیلیجنس اور آپریشنل ہم آہنگی کے لیے تھے، جو ایران کے خلاف فوجی مہم کی حمایت کا حصہ تھے۔ ان دوروں کو جنگ کے دوران اسرائیل اور امارات کے درمیان گہرے اور بڑھتے ہوئے تعاون کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں، وال اسٹریٹ جرنل نے بھی انکشاف کیا کہ موساد کے سربراہ نے ایران کے ساتھ فوجی تصادم کے عروج پر کم از کم دو بار امارات کا دورہ کیا تاکہ ابوظہبی کے ساتھ مشترکہ سکیورٹی اور آپریشنل ہم آہنگیوں کو فروغ دیا جا سکے؛ جس کے مطابق، یہ رپورٹ ایک بار پھر اسرائیل کے کردار کو اجاگر کرتی ہے کہ اس نے امارات کو ایران کے ساتھ تنازع میں آنے کی ترغیب دی۔ اخبار نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا، جنگ بندی سے پہلے اور بعد میں دونوں مراحل میں۔