’’الیکشن کمیشن بی جے پی کا جھنڈا ہی لہرا دے‘‘ اکھلیش یادو کا فارم-7 کے مبینہ غلط استعمال پر سنگین الزام
8
M.U.H
08/02/2026
لکھنؤ: سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے اتوار کے روز الیکشن کمیشن پر فارم-7 کے غلط استعمال کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ ان کی پارٹی کے ووٹ شیئر میں گڑبڑی کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن اور بی جے پی کے درمیان ملی بھگت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اگر یہی صورتحال ہے تو الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ کھل کر بی جے پی کا جھنڈا ہی لہرا دے۔ اکھلیش یادو نے پریس کانفرنس میں کہا: ’’ہم نے پچھلی پریس کانفرنس میں فارم-7 پر سوال اٹھائے تھے۔ اس کے بعد حکومت نے دہلی، لکھنؤ اور ملک کے دیگر حصوں میں موجود ایجنسیوں اور پیشہ ور افراد کو کام پر لگا دیا ہے۔ ان کے پاس مکمل ووٹر لسٹ ہے اور وہ ان بوتھوں کی نشاندہی کر رہے ہیں جہاں سماجوادی پارٹی نے انتخابات جیتے تھے۔ انہی مقامات پر فارم-7 بھروا کر چھپوائے جا رہے ہیں اور کئی جگہوں پر بدنظمی پیدا کی گئی ہے۔‘‘
بہار اور بنگال کی مثال دیتے ہوئے سنگین خدشات کا اظہار
اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ: ’’بی جے پی پہلے ہی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے ذریعے بہار کے انتخابات جیت چکی ہے اور اب وہی طریقہ مغربی بنگال میں اپنایا جا رہا ہے۔ وہاں کی ریاستی حکومت اور وزیراعلیٰ بار بار کہہ رہی ہیں کہ الیکشن کمیشن اب بی جے پی کا کمیشن بن چکا ہے۔ ایسے میں بہتر ہوگا کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کا جھنڈا ہی لہرا دے۔‘‘
فارم-7 کیا ہے؟
فارم-7 کا استعمال ووٹروں کی فہرست میں کسی نام کے اندراج پر اعتراض کرنے یا موجودہ نام کو حذف کرانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اکھلیش یادو کا الزام ہے کہ اس فارم کا استعمال جان بوجھ کر سماجوادی پارٹی کے حامی ووٹروں کے نام ہٹانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ادھر، الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) نے اتر پردیش میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے تحت دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی مدت بڑھا کر 3 مارچ 2026 کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر کی درخواست پر لیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو ووٹر لسٹ میں اپنے اندراج کی جانچ، اعتراض درج کرانے اور نئے اہل ووٹروں کے نام شامل کروانے کے لیے مزید وقت فراہم کیا جا سکے۔ الیکشن کمیشن کے 5 فروری 2026 کے خط کے مطابق، ابتدائی طور پر یہ مدت 6 فروری کو ختم ہونی تھی، لیکن رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز 1960 کے تحت اسے بڑھا دیا گیا ہے تاکہ جامع جانچ اور عوامی شمولیت یقینی بنائی جا سکے۔ اکھلیش یادو کے ان الزامات کے بعد اتر پردیش کی سیاست میں ایک بار پھر الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، جبکہ آنے والے انتخابات کے پیش نظر یہ معاملہ سیاسی درجۂ حرارت مزید بڑھا سکتا ہے