وزیراعظم مودی اور انور ابراہیم کے درمیان کوالالمپور میں اہم دو طرفہ مذاکرات، تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق
8
M.U.H
08/02/2026
کوالالمپور: وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے دو روزہ دورۂ ملیشیا کے دوران اتوار کو ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم کے ساتھ نمائندہ سطح کی اہم دو طرفہ بات چیت کی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے بھارت–ملیشیا تعلقات کے تمام اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا اور اقتصادی تعاون، دفاع و سلامتی، صاف توانائی، زراعت، مینوفیکچرنگ، سیمی کنڈکٹر، اسکل ڈیولپمنٹ اور صلاحیت سازی جیسے کلیدی شعبوں میں اشتراک کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ یہ اعلیٰ سطحی مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی رفتار دینے کی سمت ایک اہم قدم تصور کیے جا رہے ہیں۔
ملیشیائی وزیر اعظم کا پرتپاک خیرمقدم
ملاقات کے آغاز میں وزیر اعظم انور ابراہیم نے وزیر اعظم مودی اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا: ’’ہم تمام شعبوں میں مزید تعاون کی توقع رکھتے ہیں اور یہ دورہ میرے لیے ذاتی طور پر بھی بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ ہم نے کئی ایسے امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا ہے، جن پر مستقبل میں مزید غور و فکر کیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید مضبوطی اور گہرائی آئے گی اور دو طرفہ شراکت داری کو نئی جہت ملے گی۔
وزیر اعظم مودی کا اظہار تشکر
اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ان کا اور ان کے وفد کا استقبال نہایت شاندار اور ناقابلِ فراموش رہا۔ انہوں نے کہا کہ چند ہی گھنٹوں میں ملیشیا کی زندگی، ثقافت اور روایات کو جس خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا گیا، وہ ہمیشہ یادگار رہے گا۔ انہوں نے کہا: ’’دوستی کیا ہوتی ہے؟ دوستی کی بلندی اور گہرائی کیا ہوتی ہے؟ میں اس وقت ان تمام احساسات کو پوری شدت کے ساتھ محسوس کر رہا ہوں، اور اس کے لیے میں آپ کا دل سے شکر گزار ہوں۔‘‘
بھارت–ملیشیا تعلقات میں نئی توانائی
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ تیسری مرتبہ وزیر اعظم کی حیثیت سے ملیشیا کے دورے پر آئے ہیں، جبکہ وزیر اعظم انور ابراہیم کے دورِ اقتدار میں یہ ان کی چوتھی ملاقات ہے، جو دونوں رہنماؤں کے درمیان مضبوط اعتماد اور قریبی تعلقات کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں بھارت اور ملیشیا کے تعلقات میں غیر معمولی رفتار اور گہرائی پیدا ہوئی ہے، جو نہایت حوصلہ افزا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک زراعت، مینوفیکچرنگ، صاف توانائی، سیمی کنڈکٹر، اسکل ڈیولپمنٹ اور صلاحیت سازی کے شعبوں میں ایک دوسرے کے اہم شراکت دار بن چکے ہیں، جبکہ دفاع اور سلامتی کے میدان میں تعاون بھی مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے دونوں ممالک کے تعلقات کی اصل بنیاد کو عوامی روابط قرار دیتے ہوئے کہا: ’’ہمارے تعلقات کی حقیقی طاقت پیپل ٹو پیپل ٹائز ہیں۔ بھارتی نژاد تقریباً 30 لاکھ ملیشیائی شہری ہمارے دونوں ممالک کے درمیان ایک ’زندہ پل‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ انہیں حال ہی میں بھارتی ڈائسپورا سے ملاقات کا موقع ملا، جو ان کے لیے ایک نہایت خاص اور جذباتی تجربہ رہا۔ انہوں نے کہا کہ ڈائسپورا کے افراد میں وزیر اعظم انور ابراہیم کے لیے ذاتی احترام اور محبت نمایاں طور پر دیکھی گئی۔
دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عزم
وزیراعظم مودی نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دوست ممالک کا ساتھ اس لڑائی میں بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور ملیشیا اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ دونوں ممالک کی خوشحالی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور مشترکہ کوششوں سے ہی پائیدار ترقی ممکن ہے۔ وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں واضح کیا: ’’آج میری اس یاترا کا بنیادی پیغام بالکل صاف ہے کہ بھارت، ملیشیا کے ساتھ مل کر اپنے تعلقات کو نئی سطح پر لے جانا چاہتا ہے اور تعاون کے ہر شعبے میں توسیع اور گہرائی پیدا کرنا چاہتا ہے۔‘‘
شاندار مہمان نوازی پر شکریہ
ملاقات کے اختتام پر وزیر اعظم مودی نے ملیشیا کے وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اپنے اور اپنے وفد کے لیے کیے گئے شاندار انتظامات اور پرتپاک استقبال کو وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ وزیر اعظم مودی اور انور ابراہیم کے درمیان ہونے والی یہ اہم ملاقات نہ صرف بھارت–ملیشیا تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بنی بلکہ اس نے اقتصادی، دفاعی اور سماجی شعبوں میں نئے امکانات کے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت آنے والے وقت میں خطے کے امن، استحکام اور ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔