ہمنت بسوا سرما کے بیان پر سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے: مسلم پرسنل لا بورڈ
52
M.U.H
31/01/2026
نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے جمعہ کو آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما کے ’میاں‘ سے متعلق بیان کو ’’مسلم مخالف‘‘ اور ’’غیر آئینی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کو اس معاملے کا ازخود نوٹس لینا چاہیے۔ سرما نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ریاست میں ووٹر لسٹ کے خصوصی نظرثانی کے دوران ’میاں‘ برادری کے افراد کو ’’پریشان‘‘ کیا جا رہا ہے، کیونکہ انہیں آسام میں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
سرما نے بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کے لیے ’میاں‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان سید قاسم رسول الیاس نے ایک بیان میں کہا کہ سرما کا یہ بیان مسلم مخالف اور انتہائی تفریق پیدا کرنے والا ہے، جس پر سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے۔ الیاس نے دعویٰ کیا، ’’مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز زبان اور کھلا اشتعال اب حکمراں جماعت کے سیاسی بیانیے کا معمول بنتا جا رہا ہے۔
اب آئینی عہدوں پر فائز افراد بھی اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔ اتراکھنڈ، اتر پردیش اور اب آسام کے وزرائے اعلیٰ مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے اشتعال انگیز اور غیر آئینی بیانات دے رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سرما کا بیان ناقابلِ قبول ہے کیونکہ وزیر اعلیٰ کے طور پر انہوں نے آئین کے تحفظ کا حلف لیا ہے، اس کے باوجود وہ ایک مخصوص طبقے کے خلاف امتیاز، ظلم اور حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کی وکالت کرتے نظر آ رہے ہیں۔
الیاس کے مطابق بورڈ نے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے بھی آسام کے وزیر اعلیٰ کے ان خطرناک اور غیر آئینی بیانات پر مناسب آئینی کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔