بھوک ہڑتال کر رہے منوج جرانگے کا حکومت کو سخت انتباہ، کہا- ’ہمیں صرف اپنے حق کا ریزرویشن چاہئے، سیاست نہیں‘
47
M.U.H
30/08/2025
ممبئی: مراٹھا ریزرویشن تحریک کے سرکردہ کارکن منوج جرانگے نے ہفتہ کو حکومت مہاراشٹر کو سخت لہجے میں وارننگ دی کہ وہ مراٹھا سماج کے صبر کا امتحان نہ لے۔ ممبئی کے آزاد میدان میں جاری غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کے دوسرے دن انہوں نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ مراٹھا کمیونٹی سیاست میں شامل نہیں ہونا چاہتی بلکہ صرف اپنا حق یعنی ریزرویشن چاہتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت گمراہ کن بیانات نہ دے کہ مراٹھا سماج او بی سی کوٹے سے ریزرویشن حاصل کرنا چاہتا ہے۔ جرانگے کے مطابق مطالبہ صرف یہ ہے کہ تمام مراٹھاؤں کو کنبی طبقہ کے تحت تسلیم کیا جائے تاکہ انہیں آئینی طور پر تعلیم اور سرکاری نوکریوں میں وہی ریزرویشن ملے جس کے وہ حقدار ہیں۔ کنبی زرعی سماج ہے جو پہلے ہی او بی سی کی فہرست میں شامل ہے۔
جرانگے نے کہا، ’’ہم نے کبھی او بی سی ریزرویشن میں کٹوتی کی مانگ نہیں کی، حکومت جھوٹی خبریں پھیلا رہی ہے۔ ہم صرف اپنے حق کی بات کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ مہاراشٹر دیویندر فڑنویس پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ ریاست میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جرانگے نے فڑنویس سے اپیل کی کہ وہ غریب مراٹھا خاندانوں کی توہین نہ کریں اور ماحول خراب کرنے کے بجائے مسئلے کو حل کریں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ’’وزیراعلیٰ کے دباؤ میں بی ایم سی نے احتجاجیوں کے لیے پانی، کھانے اور بنیادی سہولتوں پر پابندی لگا دی ہے۔ ہوٹل اور دکانیں بند کرا دی گئی ہیں، پینے کا پانی اور عوامی بیت الخلاء تک بند کر دیے گئے ہیں۔ کیا حکومت غریب مراٹھاؤں کو اس طرح دباؤ میں لانا چاہتی ہے؟
آزاد میدان میں موجود کئی شرکاء نے بھی شکوہ کیا کہ کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت ہے اور حکومت نے جان بوجھ کر اردگرد کی دکانیں بند کرائی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی سہولتوں کی کمی کے باعث دھرنے پر بیٹھے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے اپنے بیان میں کہا کہ پانی کی نکاسی اور عارضی بیت الخلاء کی مناسب سہولت فراہم کر دی گئی ہے لیکن مظاہرین کا ماننا ہے کہ سہولتیں ناکافی ہیں اور حکومت ان پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی اپنا رہی ہے۔
جرانگے نے اپنے حامیوں کو صبر و تحمل سے کام لینے کی تلقین کی اور کہا کہ تحریک پُرامن رہے گی۔ تاہم انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’اگر حکومت نے اب بھی ہماری آواز کو نظرانداز کیا تو حالات بگڑ سکتے ہیں۔ ہم صرف ریزرویشن مانگتے ہیں، سیاست نہیں۔