خواتین پر تین بچوں کا بوجھ نہ ڈالیں: بھاگوت کو اویسی کا جواب
19
M.U.H
29/08/2025
حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی نے جمعہ کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوستانی خواتین پر اپنا ’’ایک خاندان میں تین بچوں‘‘ کا نظریہ نہ تھوپیں۔
اویسی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ ان کے دورِ اقتدار میں مسلمانوں کے خلاف دشمنی کو ’’ادارہ جاتی‘‘ بنا دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی ویڈیو سروس کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اویسی نے کہا کہ آر ایس ایس اور اس کے زیر سرپرست یا حمایت یافتہ ادارے ’’مسلم مخالف نفرت پھیلانے‘‘ کے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی آبادی کی شرحِ اضافہ گھٹ رہی ہے اور یہ 14.23 فیصد ہے، جب کہ ہندو آبادی لگ بھگ 80 فیصد ہے۔ اویسی نے کہا، ’’اور اب آپ کہہ رہے ہیں کہ تین بچے پیدا کرو۔ آپ کون ہوتے ہیں لوگوں کی خاندانی زندگی میں دخل دینے والے؟ آپ ہندوستانی خواتین پر بوجھ کیوں ڈالنا چاہتے ہیں جن کی اپنی ترجیحات ہو سکتی ہیں؟ یہی تو آر ایس ایس کا دوہرا معیار ہے۔‘‘
خیال رہے کہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے جمعرات کو کہا تھا کہ آبادی کو مناسب اور قابو میں رکھنے کے لیے ہر ہندوستانی خاندان میں تین بچے ہونے چاہئیں۔ بھاگوت نے یہ بھی کہا کہ آر ایس ایس کسی پر بھی حملہ کرنے پر یقین نہیں رکھتا، خواہ وہ مذہبی بنیاد ہی پر کیوں نہ ہو۔ اس پر، حیدرآباد کے رکن پارلیمان اویسی نے کہا کہ ایسے کئی مواقع ہیں جب بھاگوت نے مسلمانوں کو ’’چوری کا مال اور مغل بادشاہ کی اولاد‘‘ کہا تھا۔
انہوں نے سوال کیا، ’’کون تمام دھرم سنسدوں کا انعقاد کرتا ہے اور مسلمانوں کے کھلے عام قتلِ عام اور خواتین کے کھلے عام ریپ کی پکار لگاتا ہے؟‘‘ اویسی نے الزام لگایا، ’’یہ سب آر ایس ایس کے سرپرست اور اس کی حمایت یافتہ تنظیمیں ہی ہیں جو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلاتی ہیں اور اسے فروغ دیتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نریندر مودی کے دورِ حکومت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ادارہ جاتی بنا دیا گیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام کو آئندہ انتخابات میں بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی ضرورت کو سمجھنا چاہیے تاکہ اسے سیاسی ریٹائرمنٹ مل سکے۔ اویسی نے کہا، ’’ہمیں انہیں خود سے ریٹائر ہونے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ ہندوستانی عوام اور جمہوریت یہی چاہتے ہیں اور ہم اس کوشش میں ہیں کہ بی جے پی کو ہمیشہ کے لیے سیاست سے ریٹائر کر دیا جائے۔‘‘ اویسی کے مطابق، وی۔ ڈی۔ ساورکر نے 1937 میں احمد آباد میں ہندو مہا سبھا کے 19ویں اجلاس میں دو قومی نظریہ پیش کیا تھا اور بعد میں 1940 میں مسلم لیگ نے اس کی تائید کی تھی۔