ایٹمی معاہدے اور قرارداد 2231 کی شقوں کو نظرانداز کرنا یورپ کی منافقت: سید عباس عراقچی
20
M.U.H
29/08/2025
تہران:وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے یورپی کمیشن کی نائب سربراہ اور خارجہ پالیسی کی ذمہ دار کایا کالاس کو ایک باضابطہ خط لکھ کر تین یورپی ممالک کے منافقانہ رویہ پر سخت تنقید کی ہے۔
سید عباس عراقچی نے اس خط میں لکھا ہے کہ یورپی ٹرائیکا اور یورپی یونین نے سلامتی کونسل کو بھیجے گئے اپنے مراسلے میں ایٹمی معاہدے اور قرارداد 2231 میں واضح طور پر درج اصولوں اور مغربی فریق کی ذمہ داریوں کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا ہے۔
وزیر خارجہ عراقچی نے لکھا ہے کہ فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے پاس سلامتی کونسل کے ذریعے ایران پر پابندیاں عائد کرنے کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں ہے۔
انہوں نے لکھا کہ چین اور روس بھی ایران کے ساتھ مکمل اتفاق رکھتے ہیں اور سلامتی کونسل کو اپنی رائے سے آگاہ کرچکے ہیں۔
سید عباس عراقچی نے یورپی کمیشن کی نائب سربراہ کے نام اپنے خط میں لکھا ہے کہ ایران ہمیشہ ایٹمی معاہدے کا پابند رہا اور امریکہ اور یورپ کی جانب سے جے سی پی او اے کی خلاف ورزی کے بعد بھی، اسی معاہدے کے تحت جوابی اقدامات کرنے پر مجبور ہوا حالانکہ یورپ نے تمام وعدوں کے باوجود، ہر مرحلے میں امریکی پابندیوں کا ساتھ دیا اور انسٹیکس نام کے راہ عارضی حل کو بھی فعال کرنے سے گریز کیا۔
وزیر خارجہ نے اس خط میں ایران اور ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکہ اور صیہونی حکومت کے حملوں کی یورپ کی جانب سے حمایت کو بھی کھلی منافقت قرار دیا جس کے نتیجے میں یورپ کی بدنیتی پہلے سے زیادہ کھل کر سامنے آگئی۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی ذمہ دار کایا کالاس نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بند ہونے کا مطالبہ کیا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ یورپ خود کو غیرجانبدار ثالث کہنے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔
قابل ذکر ہے کہ سید عباس عراقچی کے خط کی کاپی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے عبوری سربراہ اور دیگر ارکان کو بھی بھیج دی گئی ہے۔