دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کسی صورت قبول نہیں: محمد باقر قالیباف
19
M.U.H
21/04/2026
اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا کہ ہمیں دھمکیوں کیساتھ مذاکرات کسی صورت قبول نہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک پیغام میں اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ مذاکرات کی میز کو "ہتھیار ڈالنے کی میز" میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرکے صدر ٹرمپ خود فریبی کا شکار ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرلیں گے یا نئی جنگ جوئی کا جواز پیدا کر لیں گے۔
قالیباف نے واضح کیا کہ مذاکرات کی میز پر دباؤ کے حربہ سے نتائج نہیں ملتے، ایران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کی پیش کش قبول نہیں کرتا، پچھلے دو ہفتے کے دوران ایران نے میدان جنگ میں نئے پتے دکھانے کیلئے خود کو تیار کر لیا ہے۔ ادھر ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادے نے انٹرویو میں کہا کہ امریکا کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ حد سے بڑھ کر کیے جانے والے مطالبات ترک کرے اور ایرانی عوام کے حقوق کا مکمل احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا جنگ کرکے دیکھ چکا اور ممکن ہے کہ وہ جنگ کے راستے پر رہ کر کچھ حاصل کرنے کی سوچ میں ہو، مگر اس بحران کا واحد حل سفارتکاری ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ ایران سے مذاکرات میں امریکا سنجیدہ نہیں اور خبردار کیا کہ ماضی کی غلطیاں دہرائی گئیں تو ایران فیصلہ کن انتقامی کارروائی کرے گا۔ ایران نے بحری جہاز پر امریکی حملے اور قبضے کے بعد مذاکرات امریکا کی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کر دیئے۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے امریکی تجاویز غیر سنجیدہ اور مطالبات غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ایران سے جوہری مواد کی بیرونِ ملک منتقلی کبھی مذاکرات کا حصہ نہیں رہی۔