عراقچی: امریکا نے ایران کی سات روزہ شرائط تسلیم کرلی ہیں لیکن چند شقوں کا اضافہ چاہتا ہے
27
M.U.H
21/10/2026
تہران: وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے الاخباریہ ٹی وی سے گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان اور قطر سمیت ثالثی کرنے والے ملکوں کے توسط سے ایران اور امریکا کے درمیان رابطہ جاری ہے۔
انھوں نے الاخباریہ ٹی وی کے اینکر کے اس سوال کے جواب میں کہ کہا جاتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان، بالواسطہ گفتگو کا سلسلہ جاری ہے، کہا کہ امریکا سے ہماری گفتگو کا سلسلہ، ثالث ملکوں کے توسط سے جاری ہے جن میں پاکستان اور قطر بھی شامل ہیں۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ ہم نے سات روزہ فارمولے کے عنوان سے اپنی تجاویز امریکا کے لئے بھیجی تھیں جن میں صراحت کے ساتھ اپنی شرائط بیان کی تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ اس فارمولے میں وضاحت کی گئی ہے کہ ایرانی شرائط پر عمل درآمد کے چھٹے دن آبنائے ہرمز مکمل طورپر کھول دی جائے گی۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکیوں نے اطلاع دی ہے کہ وہ ان شرائط کو تسلیم کرتے ہیں لیکن چند شقوں کا اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ امریکیوں سے ہمارا مطالبہ ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کے مطابق وہ اپنے سبھی عہدوپیمان کی پابندی کریں، اس کے بعد ہم دیگر معاملات پر گفتگو کرسکتے ہیں اورمذاکرات کے آخری مرحلے میں، دونوں فریق جو مسئلہ اور موضوع بھی پیش کریں ان پر بحث اور سمجھوتہ ہوسکتا ہے۔
وزیرخارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ہمارے نقطہ نگاہ سے سفارت کاری کے دروازے کھلے ہوئے ہیں، بس شرط یہ ہے کہ فریق مقابل سمجھوتوں کی پابندی کرے ۔
انھوں نے کہا کہ مذاکرات کی میز اپنی جگہ باقی ہے ۔ دنیا والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ایران نہیں بلکہ امریکی ہیں جو راستہ بند کررہے ہیں۔ اگر وہ مفاہمت میں سنجیدہ ہیں تو، راستہ ان کے سامنے کھلا ہوا ہے۔ بس یہی کافی ہے کہ وہ انہیں شرائط کی پابندی کریں جو پہلے بیان ہوچکی ہیں اور انھوں نے ان کی پابندی کا وعدہ کیا تھا۔ اگر وہ ان شرائط کی پابندی کرتے ہیں تو آبنائے ہرمز پوری طرح کھول دی جائے گی اور اس کے بعد حتمی سمجھوتے کے لئے مذاکرات کے دروازے بھی کھل جائيں گے۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے العراقیہ ٹی وی کے ساتھ اپنی اس گفتگو میں کہا کہ بحیرہ احمر اور اس کے تغیرات کا ہم سے کوئی تعلق نہيں ہے، اس کے اپنے خاص مسائل ہیں، لیکن آبنائے ہرمز کے بارے میں ہمارا موقف واضح اور شفاف ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ آبنائے ہرمزکے بارے میں جب تک کوئی سمجھوتہ یا مفاہمت نہیں ہوجاتی، اس وقت تک اس کو سب کے لئے نہیں کھولا جائے گا۔