ہم لبنان سے عقب نشینی نہیں کرینگے، اسرائیلی وزیر جنگ کا اعلان
30
M.U.H
15/06/2026
اسرائیلی وزیر جنگ اسرائیل کاٹز نے ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کے بارے امریکی وعدوں کے خلاف بیان جاری کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ اسرائیل تمام "موجودہ اور مستقبل کے دباؤ" کے باوجود لبنان سے فوجی انخلاء کی مخالفت کرتا رہے گا۔ اپنے ایک بیان میں اسرائیل کاٹز نے کہا کہ مَیں اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو ایک واضح پالیسی پر عمل پیرا ہیں کہ جس کے مطابق اسرائیلی فوج لبنان، شام اور غزہ کے سکیورٹی زونز میں غیر معینہ مدت تک تعینات رہے گی تاکہ اسرائیلی سرحدوں اور صیہونی بستیوں کو "جہادی عناصر" سے محفوظ رکھ سکے۔ قابض اسرائیلی وزیر جنگ نے جنوبی لبنان میں مقبوضہ فلسطینی سرحد سے ملحقہ رہائشی علاقوں اور صیہونی بستیوں کی وسیع پیمانے پر تباہی کے بارے بھی بات کی اور زور دیتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی میں مقامی باشندوں سے علاقے کا انخلا اور زمینی و زیر زمین دونوں طرح کے دہشتگردی انفراسٹرکچر کو تباہ کرنا بھی شامل ہے، بشمول سرحدی دیہات میں واقع مکانات کے!
قابض اسرائیلی وزیر جنگ نے جنوبی لبنان پر ناجائز قبضے کو جاری رکھنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے پر قبضہ اور سکیورٹی زونز کا قیام "جنگِ قیامت" (موجودہ اسرائیلی فوجی آپریشن) میں اسرائیلی فوج کی عظیم کامیابیوں میں سے ایک ہے کہ جو سیاسی قیادت کے فیصلوں اور ہدایات کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے لہذا، ہم لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کی مخالفت کرتے ہیں چاہے ہمیں موجودہ اور مستقبل کے تمام دباؤ کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ اسرائیل کاٹز نے کہا کہ نیتن یاہو نے اس موقف سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اعلی امریکی حکام کو بھی آگاہ کر دیا ہے نیز نیتن یاہو نے خود اس معاملے پر گذشتہ روز امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کے ساتھ بھی بات کی ہے۔
اپنے بیان کے آخر میں قابض اسرائیلی وزیر جنگ نے حسب معمول دعوی کیا کہ اگر ایران لبنان میں ہونے والے واقعات کی وجہ سے اسرائیل پر حملہ کرتا ہے، تو ہم ان پر پوری طاقت سے حملہ کریں گے اور انہیں طاقت کا فرق دکھا دیں گے۔