تہران : بحرین ميں سیکورٹی دستوں نے ملک کے مختلف علاقوں پر چھاپے مارکر کسی عدالتی حکم کے بغیرشیعہ علما کی گرفتاری کی نئی لہر شروع کردی ہے
ارنا نے الجزیرہ کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ بحرین کی وزارت داخلہ نے آج سنیچر کو اعلان کیا ہے کہ 41 علمائے کرام کو امریکا اور اسرائيل کے حملوں کے دوران ایران کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
بحرین کی الوفاق ویب سائٹ نے رپورٹ دی ہے کہ بحرینی افواج نے آج متعدد شیعہ آبادی کے علاقوں پر چھاپہ مارا اور علمائے دین نیز دینی تعلیم کے مراکز کے اساتذہ کو گرفتار کرلیا۔
قابل ذکر ہے کہ بحرین کی حکومت نے ایران کے خلاف امریکا اور غاصب صیہونی حکومت کی جنگ کے بعد ایران سے ہمدردی رکھنے اور اس کی طرفداری کے الزام میں ملک کے شیعہ مسلمانوں پر ایسی حالت میں مظالم کی نئی لہر شروع کی ہے کہ امریکی بحریہ کا پانچواں بحری بیڑہ بحرین ميں موجود ہے۔
بحرین کی پٹھو حکومت نے ملک کے شیعہ آبادی کے علاقوں اور ان کے مذہبی مراکز پر چھاپوں کا سلسلہ شروع کرکے سیکورٹی گھٹن کی فضا قائم کرکے شیعہ مسلمانوں پر دباؤ کافی بڑھا دیا ہے۔
بحرین کے سماجی کارکنوں نے بتایا ہے کہ سیکورٹی دستوں نے مختلف علاقوں میں شیعہ علمائے دین کے گھروں میں کسی عدالتی حکم کے بغیر داخل ہوکر انہیں گرفتار کرنے کے علاوہ ان کے گھر کے اثاثے بھی بھی ضبط کرلئے ہیں۔
گرفتار شدگان کے ناموں کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن رپورٹیں بتاتی ہیں کہ یہ کارروائیاں، آل خلیفہ حکومت پر تنقید کرنے والے شیعہ سماجی و سیاسی کارکنوں کی سرکوبی کی مہم کے تحت شروع کی گئی ہیں۔
بحرین کی آل خلیفہ حکومت نے ایران کے خلاف امریکا اور غاصب صیہونی حکومت کی وحشیانہ جارحیت کے بعد ملک کے شیعہ مسلمانوں کی سرکوبی ایسی حالت میں شروع کی ہے کہ جمیعت الوفاق نے حکومت بحرین سے بے بنیاد الزامات کے تحت عوام کی سرکوبی کا سلسلہ فوری طور پر بند کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔