روس اور ایران کو تیل کی فروخت پر اب نہیں ملے گی کوئی رعایت، امریکی وزیر خزانہ کا بڑا اعلان
40
M.U.H
25/04/2026
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے جمعہ (24 اپریل) کو کہا کہ سمندر میں موجود روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری کی اجازت دینے والی رعایت کی مدت میں توسیع کرنے کا امریکہ کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سمندر میں موجود ایرانی تیل کے لیے دی گئی ایک بار کی رعایت کو آگے بڑھانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بیسنٹ نے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ’’ایرانیوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ہم نے ناکہ بندی کر رکھی ہے اور وہاں سے کوئی تیل باہر نہیں آ رہا۔‘‘
امریکی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ’’ہمیں لگتا ہے کہ اگلے دو تین دن میں انہیں پیداوار بند کرنی پڑے گی جو ان کے تیل کے کنوؤں کے لیے بہت برا ہو گا۔‘‘ بیسنٹ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل جنگ کے حوالے سے دنیا فکر مند ہے اور آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈی بحران کا شکار ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے خام تیل کی قیمتیں 100 امریکی ڈالر فی بیرل سے اوپر جانے کے بعد عالمی توانائی کی منڈیوں کو مستحکم کرنے کی غرض سے مارچ میں روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کے لیے رعایت دی تھی۔ اس کے بعد بیسنٹ نے ’وائٹ ہاؤس‘ میں کہا تھا کہ پابندیوں سے دی گئی رعایت کی مدت میں توسیع کا ان کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، لیکن اس کے محض 2 دن بعد ہی وزارت خزانہ نے چھوٹ کی مدت بڑھا دی تھی۔
اسکاٹ بیسنٹ نے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عالمی توانائی کی منڈی پر امریکہ-اسرائیل جنگ کے اثرات اور دیگر موضوعات پر بات کرتے ہوئے اپنے موقف میں آنے والی گزشتہ تبدیلی کی وجہ بتائی۔ بیسنٹ نے کہا کہ گزشتہ ہفتے ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اجلاسوں کے دوران 10 سے زیادہ انتہائی کمزور اور غریب ممالک نے مجھ سے آکر کہا، کیا آپ ہماری مدد کر سکتے ہیں؟ وزیر خزانہ کے مطابق یہ (رعایت) ان کمزور اور غریب ممالک کے لیے تھی، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ہم اب ایک بار پھر اس کی مدت میں توسیع کریں گے۔ میرا خیال ہے کہ سمندر میں موجود روسی تیل کا بڑا حصہ استعمال ہو چکا ہے۔