انروا کےخلاف اقدامات پر اسرائیل کو عالمی عدالت لے جائیں گے:یو این سیکرٹری جنرل
8
M.U.H
15/01/2026
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتيريس نے قابض اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اقوام متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کی امداد اور روزگار کے ادارے ''انروا'' کو نشانہ بنانے والے قوانین منسوخ نہ کیے اور ضبط کی گئی جائیدادیں اور اثاثے واپس نہ کیے تو اسے عالمی عدالت انصاف میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ گوتيريس نے آٹھ جنوری کی تاریخ والے ایک تحریری مراسلے میں صیہونی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو بتایا کہ اقوام متحدہ ان اقدامات پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتی جو بین الاقوامی قانون کے تحت قابض اسرائیل کی ذمہ داریوں سے براہ راست متصادم ہیں اور اس لیے ان سے بلا تاخیر دستبردار ہونا لازم ہے۔ قابض اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ نے اکتوبر سنہ 2024ء میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت انروا کو قابض اسرائیل میں کام کرنے سے روک دیا گیا اور قابض اسرائیلی حکام پر اس ادارے سے رابطہ کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس قانون میں گذشتہ ماہ مزید ترمیم کرتے ہوئے انروا کی تنصیبات کو بجلی یا پانی فراہم کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔