تہران:ایران نے باضابطہ طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے رجوع کرتے ہوئے امریکہ پر تشدد کو ہوا دینے، ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت اور فوجی کارروائی کی دھمکیاں دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ بات اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مشن کی جانب سے جاری ایک سرکاری خط میں کہی گئی ہے۔
اس خط میں اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب، سفیر امیر سعید ایراوانی نے ایران کے اندر جاری احتجاجات کے حوالے سے امریکہ کے صدر کے حالیہ بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تہران کا دعویٰ ہے کہ ان بیانات نے بے چینی کو بڑھاوا دیا اور ریاستی اداروں پر قبضے کی کوششوں کے لیے بیرونی حمایت کا اشارہ دیا، جسے ایرانی حکام ملک کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے خلاف کھلا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ امریکہ کے یہ بیانات بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں، جن میں اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی وہ دفعات بھی شامل ہیں جو طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی اور خودمختار ریاستوں کے داخلی معاملات میں مداخلت سے روکتی ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی زبان سیاسی عدم استحکام کو بڑھاتی ہے اور تشدد کو ہوا دے سکتی ہے، جس کے خطے اور عالمی امن و سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایرانی مشن نے ان بیانات کو واشنگٹن کی جانب سے دباؤ میں اضافے کے ایک وسیع تر سلسلے کا حصہ قرار دیا ہے اور حالیہ ہفتوں میں طاقت کے بار بار استعمال کی دھمکیوں کا حوالہ دیا ہے۔ خط میں دسمبر 2025 کے آخر اور جنوری 2026 کے اوائل میں اقوامِ متحدہ کو بھیجی گئی سابقہ سفارتی مراسلت کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں ایران کے مطابق اسی نوعیت کے خدشات درج تھے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ایک طویل المدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جن کا مقصد پابندیوں، معاشی دباؤ اور سیاسی انتشار کے ذریعے ملک کو کمزور کرنا ہے۔
اپنے مراسلے میں ایران نے جون 2025 میں ہونے والی ایک مختصر مگر شدید جھڑپ کے بعد کے حالات کا بھی حوالہ دیا ہے، جسے وہ جارحیت قرار دیتا ہے۔ خط کے مطابق اس تصادم کی ناکامی کے بعد ایران کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کی نئی کوششیں شروع کی گئیں، جن میں نوجوانوں کو ریاست کے خلاف محاذ آرائی پر اکسانے والے پیغامات بھی شامل ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تشدد پر اکسانے اور فوجی کارروائی کی دھمکیوں کی واضح طور پر مذمت کریں۔ اس کے ساتھ ہی تمام اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے بیانات یا اقدامات سے گریز کریں جو ایران کی خودمختاری، علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔
مزید برآں، خط میں امریکہ کی ممکنہ غلط فہمیوں کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ تہران نے امریکہ اور اسرائیل دونوں کو اُن نقصانات کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا ہے جو اس کے بقول عدم استحکام کی پالیسیوں کے نتیجے میں ہوئے، جن میں شہری ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔