اندور میں آلودہ پانی سے اموات: راہل گاندھی کا حکومت پر سخت حملہ، جوابدہی کا مطالبہ
30
M.U.H
02/01/2026
اندور میں آلودہ پانی پینے سے اموات اور درجنوں افراد کے بیمار پڑنے کے معاملے پر کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت اور انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اندور میں لوگوں کو پانی نہیں بلکہ زہر بانٹا گیا، جبکہ انتظامیہ گہری نیند میں مبتلا رہی۔
راہل گاندھی نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں گھر گھر ماتم کا ماحول ہے، غریب اور بے بس خاندان اپنے پیاروں کو کھو چکے ہیں، مگر اس کے باوجود حکمراں جماعت کے رہنماؤں کے بیانات میں غرور اور بے حسی جھلکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن گھروں کے چولہے بجھ گئے، انہیں تسلی اور انصاف کی ضرورت تھی، لیکن حکومت نے ہمدردی کے بجائے تکبر پیش کیا۔
کانگریس رہنما نے سوال اٹھایا کہ جب شہری بار بار گندے اور بدبودار پانی کی شکایت کر رہے تھے تو ان کی بات کیوں نہیں سنی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ سیوریج کا پانی پینے کے پانی میں کیسے شامل ہو گیا اور بروقت پانی کی سپلائی بند کیوں نہیں کی گئی۔ راہل گاندھی نے واضح کیا کہ یہ عام سوالات نہیں بلکہ جوابدہی کا مطالبہ ہیں، جن کے جواب عوام کو ملنے چاہئیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صاف پانی کوئی احسان نہیں بلکہ شہریوں کا بنیادی حق اور حقِ حیات کا لازمی حصہ ہے۔ ان کے مطابق اس حق کی پامالی کے لیے حکمراں جماعت بی جے پی کا ڈبل انجن نظام، لاپرواہ انتظامیہ اور غیر حساس قیادت پوری طرح ذمہ دار ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی نااہلی نے اس سانحے کو جنم دیا، جس کی قیمت غریب شہریوں کو اپنی جانوں سے چکانی پڑی۔
راہل گاندھی نے مدھیہ پردیش کی مجموعی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست بدانتظامی کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کہیں کھانسی کے شربت سے اموات ہوئیں، کہیں سرکاری اسپتالوں میں بچوں کی جانیں گئیں، اور اب سیوریج ملا پانی پینے سے لوگ مر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ہر واقعے میں غریب سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، لیکن ملک کی اعلیٰ قیادت کی خاموشی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔