ٹرمپ نے ہند-امریکہ تعلقات کو مکمل طور پر خراب کر دیا، کانگریس کے رکن سبرامنیم کا بیان
29
M.U.H
02/01/2026
واشنگٹن: ہندوستانی نژاد امریکی رکنِ کانگریس سہاس سبرامنیم نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور طرزِ عمل نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو مکمل طور پر نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں کے تعلقات میں گراوٹ سے نہ صرف دوطرفہ اعتماد متاثر ہوا ہے بلکہ اقتصادی اور تزویراتی مفادات کو بھی دھچکا لگا ہے۔
سہاس سبرامنیم نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ-ہندوستان رشتوں کو ایسے وقت میں کمزور کیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے وسیع امکانات موجود تھے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ٹرمپ کے پہلے دور میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ذاتی سطح پر تعلقات مضبوط دکھائی دیتے تھے، لیکن موجودہ دور میں ذاتی اور پالیسی اختلافات نے ان بنیادوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
ان کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے ہندوستان کے خلاف اختیار کی گئی سخت زبان اور پالیسی فیصلوں نے برسوں میں قائم ہونے والے مضبوط اقتصادی تعلقات کو کمزور کر دیا ہے۔ سبرامنیم نے واضح کیا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو نقصان پہنچانے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ ہندوستان ایک ایسا فطری شراکت دار ہے جس کے ساتھ مل کر امریکہ اپنی اقتصادی طاقت اور عالمی اثر و رسوخ کو بڑھا سکتا ہے۔
انہوں نے چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں ہندوستان امریکہ کے لیے ایک قدرتی اتحادی ہے۔ ان کے بقول، دفاع، معیشت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ عالمی سپلائی چین میں تبدیلی کو انہوں نے ایک بڑا موقع قرار دیا اور کہا کہ اگر کمپنیاں چین سے سرمایہ نکالنا چاہتی ہیں تو ہندوستان اس کا بہترین متبادل بن سکتا ہے۔
تاہم، سہاس سبرامنیم نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کیے گئے محصولات نے ان امکانات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق محصولات سے متعلق جارحانہ بیانات اور فیصلوں نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اعتماد کو کمزور کیا ہے۔ انہوں نے امریکی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنگوں کے خاتمے اور معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے کے وعدے پورے نہیں ہوئے، بلکہ حالات مزید بگڑ گئے ہیں۔
سبرامنیم کے مطابق محصولات اور اتحادی ممالک کے ساتھ کشیدگی کے باعث امریکہ پر عالمی اعتماد میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ گزشتہ ایک سال میں خراب ہوئے تعلقات کو دوبارہ درست کرے، جن میں ہندوستان کے ساتھ تعلقات بھی شامل ہیں۔
حال ہی میں منظور ہونے والے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان دفاع، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر کو متوازن کرنے میں ہندوستان۔امریکہ شراکت داری کلیدی کردار ادا کرتی ہے، اسی لیے امریکی کانگریس میں ان تعلقات کی کمزوری پر تشویش کو انتہائی سنجیدہ سمجھا جا رہا ہے۔