اوباما نے ایک بار پھر ایران کے خلاف ٹرمپ کی بلاجواز جنگ پر شدید تنقید کی
10
M.U.H
29/10/2026
نیویارک : امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک بار پھر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی اور افراط زر میں اضافے کی وجہ ملکوں پر ٹیرف لگانے اور ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے جیسے موجودہ امریکی صدر کے غلط فیصلے ہیں۔
امریکا کے سابق ڈیموکریٹ صدر نے بدھ 28 اکتوبر کی رات ایک بار پھر ایران کے خلاف بلاجواز جنگ کے معاملے پر ٹرمپ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے جارجیا کے سینیٹر جان اوسوف کے ہمراہ اس جنگ کو ایک غیر ضروری جنگ قرار دیا جسے کوئی نہیں چاہتا تھا اور جس کے حق میں کسی نے ووٹ نہیں دیا۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ اس جنگ کے بارے میں سوچیے۔ ابتدا میں اس کا جواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ ہم کارروائی کرنے جا رہے ہیں تاکہ انھیں جوہری ہتھیاروں اور اپنے جوہری پروگرام سے دست بردار ہونے پر مجبور کر سکیں۔
اوباما نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کی تعریف کی اور کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے۔ ہم نے اس کے جوہری پروگرام کو محدود کر رکھا تھا۔ میں نے ایک ایسا معاہدہ کیا تھا جس کے بارے میں سب تسلیم کرتے تھے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکتا ہے۔ مجھے ایک بھی میزائل داغنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ میں نے سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران پر حملے کی وجہ سے تیل کی قیمتیں بار بار بڑھ رہی ہیں۔ ہمارے اتحادیوں اور ہمارے فوجی اڈوں پر حملے ہوئے ہیں۔ امریکی ہلاک ہوئے ہیں اور سیکڑوں امریکی زخمی ہوئے ہیں۔ اوباما نے زور دے کر کہا کہ ہم اپنے میزائلوں کے ذخیرے کا بڑا حصہ استعمال کر چکے ہیں اور ہمارے ذخائر کم ہو گئے ہیں، اس سے ہم زیادہ کمزور ہو گئے ہیں۔ اب آبنائے ہرمز پر ایران کو ویٹو کا اختیار حاصل ہے، یہ وہ آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ صارفین تک پہنچنے کے لیے گزرتا ہے۔
اوباما نے یوکرین اور روس کی جنگ کے سلسلے میں بھی ٹرمپ اور ان کی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس روسی صدر ولادیمیر پوتین کے سامنے گھٹنے ٹیک چکا ہے اور ان یوکرینیوں کو، جو اپنی آزادی اور جمہوریت کے لیے لڑ رہے ہیں، سودے بازی کا ذریعہ بنا رہا ہے۔