ہندوستان فلسطین میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2.5 ملین ڈالر فراہم کرے گا
32
M.U.H
11/06/2026
نیویار: ہندوستان نے ایک بار پھر اسرائیل اور فلسطین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے، غزہ میں پائیدار جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے، اور اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کو 25 لاکھ امریکی ڈالر فراہم کرے گا، جو اس کی سالانہ شراکت کا حصہ ہے۔
بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں “بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ: مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی حل کو فروغ دینا: دیرپا امن کے لیے ثالثی اور مکالمہ” کے موضوع پر کھلی بحث کے دوران اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے، سفیر ہریش پرورتھنی نے کہا کہ غزہ کی صورتحال سنگین انسانی اثرات رکھتی ہے اور اس کے لیے فوری بین الاقوامی توجہ ضروری ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر اس مؤقف کی توثیق کی کہ “ایک خودمختار، آزاد اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست جو محفوظ اور تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر اسرائیل کے ساتھ امن اور سلامتی کے ساتھ ساتھ موجود ہو”، خطے میں پائیدار امن اور خوشحالی حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے۔فلسطین کے ساتھ ہندوستان کی طویل المدتی ترقیاتی شراکت داری کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: “ہم چند دنوں میں یو این آر ڈبلیو اے کو 25 لاکھ امریکی ڈالر فراہم کریں گے، جو ہماری سالانہ 50 لاکھ ڈالر کی شراکت کی پہلی قسط ہوگی۔
لبنان کے حوالے سے ہندوستان نے ملک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 اور نومبر 2024 میں جاری جنگ بندی کے اعلامیے پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔سفیر پرورتھنی نے کہا کہ لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس کے ساتھ خدمات انجام دینے والے ہندوستانی فوجی اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس کونسل کی طرف سے سونپی گئی اہم ذمہ داری انجام دیتے ہیں اور انہیں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہندوستان لبنان کو طبی امداد بھی فراہم کرے گا۔یمن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ہندوستان نے ملک کے اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا اور بحری نقل و حرکت پر حملوں کی سخت مذمت کی۔
انہوں نے زور دیا کہ باب المندب آبنائے اور جنوبی بحیرہ احمر کا تحفظ ایک مشترکہ بین الاقوامی ذمہ داری ہے اور کہا کہ ہندوستان خلیج عدن، بحیرہ عرب اور بحرِ ہند میں استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرتا ہے۔اپنی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ثالثی کے موجودہ ڈھانچے ہمیشہ کے لیے مؤثر نہیں رہ سکتے اور اس بات پر زور دیا کہ غزہ امن منصوبہ اور “بورڈ آف پیس” فریم ورک ماضی کے ڈھانچوں کے مقابلے میں بالکل مختلف نوعیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنے اقدامات کو ڈھالنا ہوگا۔ مثال کے طور پر فلسطین کا مسئلہ ایسے پرانے ثالثی فریم ورکس سے بھرا ہوا ہے جو آج کے دور میں موزوں نہیں رہے۔ آج کا غزہ امن منصوبہ اور بورڈ آف پیس فریم ورک پہلے کے ڈھانچوں سے بالکل مختلف ہیں۔
تنازعات میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے کمزور طبقات جیسے خواتین اور بچوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی مداخلت میں انسانی تکلیف کے خاتمے کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے اور تمام تنازعات کے حل کے لیے انسانی مرکزیت پر مبنی نقطہ نظر اپنانے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے سلامتی کونسل کے 80 سال پرانے ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا، خاص طور پر دنیا کے مختلف حصوں میں جاری تنازعات سے نمٹنے میں اس کی ناکامی کے تناظر میں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو اس وقت اپنی ساکھ، اعتبار اور مؤثریت سے متعلق سوالات کا سامنا ہے۔ دنیا بھر میں جاری تنازعات اور ناقابلِ بیان انسانی مصائب اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ حقیقی اصلاحات، مستقل اور غیر مستقل دونوں اقسام کی رکنیت میں توسیع کے ذریعے، آج کی جغرافیائی سیاسی حقیقتوں کے مطابق، اقوام متحدہ کی بقا اور مستقبل کے لیے ضروری ہیں۔ سلامتی کونسل کو واقعی مؤثر بننا ہوگا۔